27 ستمبر 2021
تازہ ترین

حکومت کی تین سالہ کارکردگی حکومت کی تین سالہ کارکردگی

25 اگست کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہوئے۔ ان تین سال کی کارکردگی میں عوام کے بھلے کے لئے کچھ نہ ہوسکا۔ قومی تاریخ کے بدترین تین سال کہ جن میں مہنگائی، بے روزگاری اور بدانتظامی انتہا پر نظر آئی۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں قریباً کم و بیش ایک ہی صورت حال ہے۔ ڈیرہ غازی خان کا کمشنر ساتویں مرتبہ تبدیل ہوچکا، یعنی اوسطاً 6 ماہ سے زائد کسی آفیسر کو ٹکنے نہیں دیا جاتا، امن و امان کی ابتر صورت حال اور پنجاب حکومت کی تعریفوں کے پل کے درمیان کوئی ربط نظر نہیںآتا۔ معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت، گالم گلوچ، بازاری زبان، تین سال میں پوری ایک نسل تیار ہوچکی، جن کے ذمے صرف یہی کام ہے کہ بس ہیجان پیدا کیے رکھو۔ 
ہم حکومت میں آنے سے پہلے والے وعدے وعید پر بات نہیں کرتے تاکہ مزاج یار پر گراں نہ گزرے، لیکن پشاور میٹرو جو 28ارب روپے سے تیار ہونا تھا۔ تحریک انصاف حکومت کے 130ارب روپے لگانے کے بعد بھی ابھی تک نامکمل ہے۔ بلین ٹری پراجیکٹ جس کو عمران خان گنواتے نہیں تھکتے، عدالت عظمیٰ کہہ چکی کہ اس میں بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی اور موجودہ حکومت کو چاہیے کہ یا تو سپریم کورٹ کو چیلنج کرے وگرنہ فارن فنڈنگ کیس کی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر کھلواڑ کیا گیا۔ رنگ روڈ منصوبہ، عین اپنے شباب پر اپنی موت آپ مرگیا۔ خیبر پختونخوا حکومت کرونا فنڈ کے تین ارب روپے ایک ہی سانس میں ہڑپ کرگئی۔ مرکزی حکومت WHOاور ورلڈ بینک کی طرف سے دی گئی 300ملین ڈالرز کی امداد کے ساتھ ہاتھ کرکے بھی صادق و امین ٹھہری۔ یہ اس ’’منتخب حکومت‘‘ کے تین سال کی ہلکی سی جھلک ہے۔ یاد رہے کہ یہ مکمل فلم تو کیا ٹریلر بھی نہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اپنے دوست کے ایک پرائیویٹ ادارے کو 26ارب روپے کی ایڈوانس سبسڈی دے کر جس طرح پاکستان کا نام روشن کیا گیا، وہ بھی حسن کارکردگی کا درخشاں باب ہے جب کہ مذکورہ ادارے کی کارکردگی اظہر من الشمس ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف دو ارب 77کروڑ ڈالر کا قرضہ بینک دولت پاکستان کو جلد منتقل کردے گا یا کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیںگے۔
وہ جو کشکول گدائی کو توڑے آئے تھے، وہ آج آئی ایم ایف کے اشاروں پر غریبوں کی زندگی کے چراغ گل کرنے پر تلے ہیں۔ آج سے تین سال قبل 12سو روپے کا ایل پی جی، 28سو روپے کا ہوچکا۔ 5سو روپے سیمنٹ کی بوری 7سو روپے کی ہوچکی۔ 35روپے کلو والا آٹا 80روپے کلو ہوچکا۔ 55روپے والی چینی 110روپے کلو ہوچکی۔ ادویہ کی قیمتیں 6 سو فیصد بڑھ چکی ہیں۔ 65روپے لیٹر والا پٹرول119 
روپے لیٹر ہوچکا۔ 145روپے کلو والا گھی 330روپے کلو ہوچکا۔ بجلی 8 روپے یونٹ سے 22 روپے یونٹ ہوچکی۔ 5 کلو چاول 4 سو روپے سے بڑھ کر 800روپے کا ہوچکا۔ دال 170روپے کلو سے بڑھ کر 280روپے کلو ہوچکی۔ شرح سود ختم ہونے کے بجائے 13فیصد کردی گئی۔ یہ ہے حسن کارکردگی کی ایک ہلکی سی جھلک۔ وہ جو کہتے تھے کہ پٹرول یا ڈالر مہنگا ہو تو سمجھ جائو کہ کرپٹ ٹولہ برسراقتدار ہے، آج بلندیوں کو چھوتی مہنگائی انہی کا منہ چڑارہی ہے۔ اپنے کیے ہوئے ایک ایک وعدے سے پھرنا ان کا وتیرہ بن چکا۔ 
جمہوری پارلیمانی نظام میں حزب اقتدار کے بعد اگر عوام دادرسی کے لئے کسی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں تو وہ حزب اختلاف اور اس سے جڑی جماعتیں ہیں۔ جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ تین سال میں ان تمام پارٹیوں نے جس بے بصیرتی اور نااہلی کا ثبوت دیا، اس نے ان تمام جماعتوں اور ان کی قیادت کے تاثر کو بہت ہی برے طریقے سے متاثر کیا ہے، اگرچہ چور دروازے ڈھونڈنا، تاریکی کا سہارا لینا اور بوٹ پالش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا ان کے ماتھے کا جھومر ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی تاریخ نہیں۔ ہمارے ایک دوست کالم نویس خورشید ندیم نواز شریف کی تقریر سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنے کالم کا عنوان ہی یہ بنا ڈالا کہ ’’تقریر سے پہلے اور تقریر کے بعد کا نواز شریف‘‘ اور انہوں نے فقط ایک ہی کالم پر 
اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے پوری ایک سیریز لکھ ڈالی کہ کس طرح یہ بیانیہ پاکستان کی تقدیر کو بدل ڈالے گا، لیکن کون جانتا تھا کہ یہ سارا پریشر تو فقط ایک اچھی Bargianing کے لئے کیا جارہا تھا اور جب وہ نہ ہوپائی تو ہم نے پرانی تنخواہ پر بغیر سالانہ اضافے اپنے کام کو جاری رکھا۔ زرداری صاحب کی سیاست اپنے صوبے کی حکومت کے گرد گھومتی رہی اور سودوزیاں سمیت وہ اس کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے عالمی اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کو یہ باور کرنے کی کوشش جاری رکھی کہ مائی باپ جس تنخواہ پر آپ موجودہ حکومت کو چلارہے ہیں، ہم تو اس سے بہت کم درجے پر بھی کام چلانے کے لئے تیار ہیں، لیکن تاحال کہیں سے کوئی گرین سگنل نہیں مل سکا۔ البتہ بات چیت جاری رکھنے پر دونوں پارٹیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ 
پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی بحیثیت مجموعی پوری قوم کے سامنے سوالیہ نشان ہے۔ جس طرح پارلیمان کے تقدس کو پامال کیا جاتا رہا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جو زبان پارلیمان کے اندر استعمال کی جاتی رہی، وہ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سیاست دانوں کی جانب سے تواتر کے ساتھ روزانہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر اپنے لیڈر کے گناہوں کا ملبہ اپنے سر لینا وتیرہ بن چکا۔ کھوکھلا اور گندہ نظام، بدامنی، رشوت کا گرم بازار، حدوں کو چھوتی ہوئی لاقانونیت کہ جس کے شر سے زینب محفوظ ہے اور نہ ہی فاطمہ، پارلیمان سے منظور ہوتا ہواDomestic Violence Billاور Single National Curriculumہیں۔ مسائل کا حل آج کے بقراطوں کے پاس بھی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری قوم اور اپوزیشن اس دن کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر مناتی۔ وزراء کے بیانات سے تو یہ لگ رہا ہے کہ افغانستان کی جنگ اصل میں تحریک انصاف نے ہی لڑی اور ملا عمر کی جگہ یہ سارا کریڈٹ عمران خان کو ہی جاتا ہے۔ آخر مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی کو طالبان کی فتح پر کیوں چپ لگ گئی؟ کوئی ہے جو پتا کرکے بتاسکے کہ حضور آپ کے ہاں سوگ کیوں طاری ہے؟ اگر ہوسکے تو پتا کرکے بتائیے گا۔