27 ستمبر 2021
تازہ ترین

الیکٹرانک ووٹنگ پر اتفاق رائے ناگزیر الیکٹرانک ووٹنگ پر اتفاق رائے ناگزیر

الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور انٹرنیٹ ووٹنگ (آئی ووٹنگ) بل پر حکمراں جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی میں آنے والے الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر تین درجن سے زائد اعتراضات اٹھادئیے تو بعدازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے آئی ووٹنگ سمیت متعدد انتخابی ترامیم مسترد کردیں۔ اس کے علاوہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) اور انتخابی امور کی نگرانی کرنے والے ایک اور ادارے پلڈاٹ نے بھی ای وی ایم اور آئی ووٹنگ بل میں قانونی خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے اس معاملے میں سیاسی اتفاق رائے کو ناگزیر قرار دیا ۔فافن کے مطابق 2017 میں مشاورت کے بعد انتخابی اصلاحات میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا تھا، حکومت مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی روایت کو برقرار رکھے۔ فافن نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم آئندہ الیکشن کے جائز ہونے پر سوالات اٹھائے گی، اس لئے حکومت اور سیاسی جماعتیں فیصلہ سازی کی ذمے داری الیکشن کمیشن پر نہ ڈالیں، الیکشن کمیشن کو تنازعات میں گھسیٹنے سے آئندہ انتخابات کی ساکھ مجروح ہوگی۔ پلڈاٹ کے سربراہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا دوسرے سٹیک ہولڈرز کی مخالفت کو نظرانداز کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر بھرپور اصرار، آئندہ عام انتخابات کو وقت سے پہلے ہی متنازع بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ جہاں تک ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر الیکشن کمیشن کے اعتراضات کا تعلق ہے تو اگرچہ ان میں سے کئی ایک مضحکہ خیز ضرور ہیں، تاہم ان میں متعدد ایسے اعتراضات بھی ہیں جنہیں ٹھوس دلیل کے ساتھ بھی ردّ کرنا بہت مشکل ہے۔ الیکشن کمیشن کے اہم اعتراضات کا لب لباب یہ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کئی طریقوں سے ناصرف چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے، بلکہ ان کے سافٹ ویئر میں تبدیلی بھی چنداں مشکل نہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ای وی ایمز کی بڑے پیمانے پر خریداری، تعیناتی اورآپریٹرز کی بڑی تعداد کو ٹریننگ دینے کے لئے وقت بہت کم ہے۔ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے استعمال سے منسلک دیگر کئی مسائل کا بھی حوالہ دیا ہے، جن میں بیلٹ کی رازداری، ہر سطح پر صلاحیت کا فقدان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے اور مشینوں کو بریک اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کے مسائل شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں شرح خواندگی کم ہونے اور ووٹروں میں اس مشین کے استعمال سے متعلق آگہی نہ ہونے سے ای وی ایم کا آئندہ انتخابات میں استعمال مناسب نہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آئرلینڈ، ہالینڈ، جرمنی، فِن لینڈ اور اٹلی سمیت کئی اور ممالک سکیورٹی خدشات سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ترک کرتے ہوئے دوبارہ بیلٹ پیپرز پر آگئے ہیں۔ انٹرنیٹ ووٹنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسٹونیا کے سوا پوری دنیا میں کہیں بھی انٹرنیٹ ووٹنگ کا استعمال نہیں ہوتا، جہاں مجموعی 9 لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ 75ہزار ای ووٹنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دنیا بھر میں قومی شناختی کارڈ کے حامل اوورسیز پاکستانیوںکی تعداد 90 لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ ای سی پی نے 2015 میں چار ممالک (سعودی عرب، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ) میں تجرباتی طور پر الیکٹرانک ووٹنگ کی تھی، لیکن یہ مشق متعدد تکنیکی اور قانونی وجوہ کی بنا پر ناکام ہوگئی تھی۔ ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شدید تحفظات ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق جہاں ایک حکم پر آر ٹی ایس بیٹھ جاتا ہے، وہیں بے چاری الیکٹرانک مشین کیا کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا اصرار ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تجربہ پوری دنیا میں ناکام ہوچکا اور الیکشن کمیشن کی کرائی گئی اسٹڈی بھی پاکستان کے لئے اس نظام کو ناقابل عمل قرار دیتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر حکومت کے پاس دلیل نہیں دھمکی ہے۔ ای وی ایم کا آئیڈیا مسترد کرنے پر حکومت الیکشن کمیشن کو دھمکانے پر اتر آئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس ووٹنگ مشین پر اٹھنے والے فنی وتکینکی اور قانونی و آئینی سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی اصلاحات پر 100سے زائد اجلاس بلائے تھے جب کہ موجودہ حکومت کے لوگ ایک اجلاس میں اداروں کو آگ لگانے اور جہنم میں جانے کی باتیںکرنے پر آگئے ہیں۔ اپوزیشن کے موقف کے جواب میں حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر بات چیت اور تجاویز کے لئے متعدد بار کہا، لیکن اپوزیشن کی کسی جماعت نے دلچسپی نہیں لی۔ وزراء کے مطابق اپوزیشن کو اصل خطرہ اس بات کا ہے کہ آئی ووٹنگ کی اجازت سے تارکین وطن کے ووٹ تحریک انصاف کو ملیںگے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے ٹیکنالوجی کی طرف جانا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کی صوابدید اتنی ہے کہ وہ اپنے معیار کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا انتخاب کرے۔ آئندہ انتخابات میں ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا ایک صفحے پر نہ ہونا المیے سے کم نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے نام پر ہونے والی انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہوتیں، لیکن حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں اعتماد کے فقدان کے باعث یہ اہم ترین پیش رفت بھی متنازع ہوگئی ہے۔ ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ نظام پر الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات و مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اپوزیشن جماعتوں کو اس اہم پیش رفت پر مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کے بجائے مجوزہ نئے نظام کو بہتر شکل میں فائنل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت کو بھی ادراک کرنا چاہیے کہ اپوزیشن کی مشاورت اور حمایت کے بغیر یہ اہم پیش رفت اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق موجودہ مینوئل ووٹنگ سسٹم کی خرابیوں کو سامنے رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ کے تجربے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، لیکن ای وی ایم کے استعمال پر تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اتفاق رائے کا حصول بھی ناگزیر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک  الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو اپناچکے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت سمیت ایسے تمام ممالک نے ای وی ایم کو اپنانے سے پہلے متعدد بار ای وی ایم پائلٹ ٹیسٹنگ کی تھی۔ مغربی ممالک کو چھوڑیں، بھارت نے ای وی ایم سسٹم کی حتمی منظوری سے پہلے 30سال ای وی ایم پائلٹ ٹیسٹنگ کیں، ان کے مقابلے میں ہمارے ہاں ابھی صرف دو ای وی ایم پائلٹ پراجیکٹس کیے گئے ہیں۔