29 نومبر 2021
تازہ ترین

عوام اور مہنگائی کی چکی عوام اور مہنگائی کی چکی

مہنگائی کا ذکر اور ظہور پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں۔ مہنگائی تو وہ بلا ہے جو ایوب خان کے اس دس سالہ دور میں بھی یہاں دھڑلے سے موجود رہی، جسے بعض لوگ ملک کا بہترین دور تصور کرتے ہیں۔ یہاں مہنگائی ایوب خان سے پہلے آنے والے حکمرانوں کے دور میں بھی تھی، اس کے اپنے دور میں بھی موجود رہی اور اس کے بعد آنے والی کسی حکومت میں بھی ختم نہ ہوسکی۔ مہنگائی جب اس ملک کا مستقل مظہر ہے تو پھر کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے دور میں اس کا ظہور ناممکن ہوجائے۔ مہنگائی کے متعلق مزید کچھ بات کرنے سے پہلے اس کی تعریف بیان کرنا ضروری ہے۔ انتہائی سادہ تعریف کے مطابق، جب اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور زر کی قدر میں کمی ہو تواس امر کو مہنگائی کہا جاتا ہے، جس ملک کی معیشت کا تمام تر دارومدار قرض اور امداد میں ملنے والی رقوم پر ہو اور اسے سابقہ قرضے اتارنے کے لئے بھی نئے قرضے لینے پڑیں تو اس کی کرنسی یا زر کی قدر میں کمی کو روکنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اس تلخ سچ کی صاف تشریح یہ ہے کہ پاکستان جیسے جس ملک میں تعلیم اور صحت ہی نہیں بلکہ دفاع کا انتظام بھی بیرونی قرضوں کا مرہون منت ہو، وہاں مہنگائی پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوسکتی۔ 
یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ جب مہنگائی پر مکمل قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں تو پھر عمران خان، ان کی حکومت کو مہنگائی کے لئے کیونکر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ عمران خان کو ملک میں عرصہ دراز سے جاری مہنگائی کا ذمے دار تو قرار نہیں دیا جاسکتا مگر اس بات کے لئے مورد الزام ضرور ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ ان کی حکومت نے وہ اقدامات کرنے میں کوتاہی برتی، جن کے ذریعے مہنگائی میں کسی حد تک کمی کرکے عوام کو کچھ نہ کچھ سہولت فراہم کی جاسکتی تھی۔ پاکستان میں کوئی بھی دور ایسا نہیں گزرا جس میں مہنگائی میں اضافہ نہ ہوا ہو، مگر ان تمام ادوار میں سے عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی میں جس حد تک اور جس تیز رفتاری سے اضافہ دیکھنے میں آیا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ 
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ عمران خان آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضوں کو مہنگائی اور ملک کے دیگر مسائل کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ وہ قرض کے لئے آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کے 
بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے۔ دنیا میں جن ملکوں کو بھی معاشی طور پر ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے، ان کے متعلق یہ تو نہیں سوچا جاسکتا کہ ان کا تمام تر دارومدار بیرونی قرضوں پر ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ بیرونی قرضوں کے بغیر وہ اپنی معیشت کو مستحکم رکھ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی حیران کُن بات ہے کہ اگر ترقی یافتہ ملک بھی ایک حد تک بیرونی قرضے لئے بغیر اپنی معیشت کو مستحکم نہیں رکھ سکتے تو پھر عمران خان نے کیسے سوچ لیا تھا کہ وہ قرض کے بغیر ایک ایسے ملک کی معیشت سنبھال لیں گے جو اپنی تاریخ کے بڑے حصے میں ایک دن بھی قرضوں کے بغیر گزارا نہیں کرسکا۔ اصل میں عمران خان اور ان کے حواریوں کی یہ خام خیالی تھی، جس طرح شوکت خانم ہسپتالمیں کام جاری رکھا گیا، اسی طرح ملک کی زبوں حال معیشت کو بھی وہ زکوٰۃ، فطرانے، چندے اور بیرونی امداد سے چلالیں گے۔ اس خام خیالی میں مبتلا ہوکر ہی قرضوں کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں دیر کردی گئی۔ اس طرح کی خام خیالیوں میں مزید الجھتے ہوئے کبھی سعودی عرب، کبھی ترکی، کبھی ملائیشیا اور کبھی چین سے مالی امداد کی ایسی توقعات وابستہ کرلی گئیں، جن کا پورا ہونا فی زمانہ ممکن ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس طرح کے غلط در غلط گمانوں کے اثرات جب ایک ساتھ ملکی 
معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پھر حواس باختہ ہوکر آئی ایم ایف سے رابطہ کیا گیا۔
آئی ایم ایف کا بظاہر مقصد تو یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ ادارہ ڈوبتی ہوئی معیشتوں کو سہارا دینے کے لئے قرض دیتا ہے مگر اصل میں اس کا کردار کسی طرح بھی کسی ساہوکار سے مختلف نہیں۔ آئی ایم ایف انتہائی کم شرح سود پر قرض جاری کرتا ہے مگر اصل زر کی سود سمیت واپسی کو یقینی بنانے کیلئے وہ قرض دار ملک اور اس کے عوام کیلئے کسی قسم کا نرم رویہ ظاہر کرنے یا لچک دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور سخت سے سخت شرائط عائد کرنیکی کوشش کرتا ہے۔آئی ایم ایف کی ان کوششوں سے نبردآزما ہونا مالی اور معاشی امور کے آزمودہ ماہرین کا کام ہے۔ عمران حکومت کے نوآموز معاشی ماہرین کی کارکردگی اُس وقت سامنے آئی جب ان لوگوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر اسی کے بندے پاکستان کے نمائندے بناکر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے بھیج دیئے۔ اپنے اصل زر اور سود کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے عالمی ادارے کے بندوں نے آئی ایم ایف کیساتھ پاکستانی نمائندے بن کر جو معاملات طے کیے، اس کا نتیجہ اب بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی صورت سامنے آرہا ہے۔ 
بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ تو آئی ایم ایف کی سفارشوں پر کیا جارہا ہے مگر آٹا، گھی اور چینی جیسی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ خالص نالائقیوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حکومت کے ان رویوں اور گرتی ہوئی ساکھ کی وجہ سے ذخیرہ اندوز اور چور بازاری کرنیوالے لوگ دھڑلے سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ عوام کی اپنی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اگر کسی کو انفرادی حیثیت میں مہنگائی پر تبصرے کے لئے کہا جائے تو وہ اپنے غم و غصے کا انبار کھڑا کردیتا ہے، مگر یہ غصہ اجتماعی معاشرتی رویے میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اپنے ذاتی معاملات کو سلجھانے اور سیاسی مفادات کو حاصل کرنےمیں مصروف اپوزیشن کے بڑے بڑے نام انقلاب کے دعویدار تو ہیں مگر نہ جانے یہ کیسا انقلاب ہے جس میں عوام کے حقوق کا تحفظ اور مہنگائی کی چکی کا کوئی ذکر نہیں۔ ان حالات میں یہی لگتا ہے کہ عوام کو ابھی مہنگائی کی چکی میں مزید پستے رہنا ہوگا۔