29 نومبر 2021
تازہ ترین

بھارت کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا بھارت کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا

مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجی کی بیوہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ دُہائی دیتے ہوئے کشمیر کی آزادی کی حمایت کررہی ہے۔ پونچھ میںکشمیری مجاہدین کے ہاتھوں مرنے والے فوجی کی اہلیہ ہرمیت کور کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے، اگر وہاں کے لوگ علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو انہیں دے کیوں نہیں دیتے؟ ہمارے نوجوان روز مر رہے ہیں، مودی سرکار تو کچھ کرتی نہیں، دو دن میڈیا والے بھی آجاتے ہیں پھر تیسرے دن کوئی پوچھتا تک نہیں۔ ہرمیت کور نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیروں کی اولادیں تو سرحد پر جاتی نہیں، ایک مرتبہ ان کی اولادوں کو بھی ضرور بارڈر پر بھیجنا چاہیے۔ ہرمیت کا شوہر پونچھ کے جنگلات میں کشمیری مجاہدین کے ساتھ ہونے والی طویل ترین جھڑپ میں مارا گیا، جس کے بعد اس کی لاش بھارت میں اس کی رہائش گاہ پہنچائی گئی۔ ہرمیت کا دُکھ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے آگیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی لاشیں تو آئے دن بھارت کے مختلف شہروں میں لائی جاتی ہیں، جس پر ان کے گھروں میں کہرام بپا ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح آہ وبکا کرتے ہیں کہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ان کے بیٹوں اور بھائیوں کا خون بہنے سے روکا جائے، مگر ان کی آواز کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی اور انہیں معلوم نہیں ہوپاتا کہ مرنے والے بھارتی فوجیوں کے اہل خانہ کس کرب سے گزر رہے ہیں؟ کشمیر میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملوں اور سرحد پر سنائپر گنوں سے ٹارگٹ کیے جانے پر بڑی تعداد میں بھارتی فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بھارتی فوج میں خودکشیوں اور آپس کی لڑائیوں میں ہلاکتوں کا سلسلہ علیحدہ ہے، یعنی دیکھا جائے تو شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب بھارتی فوجیوں کے تابوت بھارت میں نہ لائے جاتے ہوں مگر بھارتی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ان ہلاکتوں کو میڈیا سے چھپایا جائے اور ان کے لواحقین کے تاثرات اور آہ و بکا کسی کو سنائی نہ دیں۔ افغانستان میں امریکہ، بھارت اور ان کی اتحادی قوتوں کی عبرت ناک شکست کے بعد کشمیر کی جدوجہد آزادی میں زبردست تیزی آئی ہے۔ اس کی وجہ کسی بیرونی قوت کی حمایت نہیں، بلکہ عام کشمیری عوام کا مورال بہت بلند ہوا ہے اور کشمیری قوم کا بچہ بچہ سوچ رہا ہے کہ اگر نہتے طالبان امریکہ جیسی نام نہاد سپرپاور کی قیادت میں نصف دنیا کو شرم ناک شکست سے دوچار کرسکتے ہیں تو وہ بھی غاصب بھارت کو جنت ارضی کشمیر سے بھاگنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان کا یہی وہ جذبہ ہے کہ آج کشمیری نوجوان، بچے، بوڑھے اورخواتین سر پر کفن باندھ کر پوری قوت سے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ مودی سرکار نے 9 لاکھ سے زائد فوج کشمیر میں جھونک رکھی ہے۔ بھارتی فوجیوں کو جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دو تین بھارتی فوجیوں نے بھی ایک سے دوسری جگہ سفر کرنا ہو تو بکتربند گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں، جس قسم کے ہتھیار بھارتی فوجیوں کے پاس ہیں، کشمیری مجاہدین کے ساتھ تو اس کا کوئی تقابل بھی نہیں کیا جاسکتا، مگر آفرین ہے کشمیری جوانوں پر کہ وہ وسائل نہ ہونے کے باوجود غاصب بھارت اور اس کی فوج کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور عملاً مودی سرکار کشمیری عوام کے سامنے جس طرح بے بسی کی کیفیت میں ہے، یہ منظر ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ بھارتی قیادت جے کے ایل ایف اور جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر جیسی جماعتوں پر پابندیاں اور ساری حریت قیادت کو جیلوں میں ڈال کرسمجھ رہی تھی کہ شاید اب تحریک ختم ہوجائے گی، مگر اس کے یہ سارے منصوبے اور سازشیں بری طرح ناکامی سے دوچار ہورہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں پونچھ کے جنگلات میں دو ہفتوں سے جاری آپریشن نے بھارتی فوج کی صحیح معنوں میں قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ سے چھ کلومیٹر تک پھیلے اس جنگل میں 5 سے 10 مجاہدین موجود ہیں، لیکن بھارتی فوج بھاری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود کسی ایک بھی کشمیری مجاہد کو شہید کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ متعصب بھارتی میڈیا ان دنوں چیخ چیخ کر اپنی فوج اور عسکری ماہرین کی ناکامیاں بیان کررہا ہے اور پاکستان پر الزامات لگائے جارہے ہیں کہ کشمیری مجاہدین کو پاکستانی فوج کی طرف سے تربیت دی گئی ہے، حالاںکہ یہ بالکل فضول الزام ہے۔ کچھ دیر پہلے تک بھارت خود یہ تسلیم کررہا تھا کہ کنٹرول لائن پر سیزفائر معاہدے کے بعد پاکستان کی جانب سے اب تک کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، لیکن جیسے ہی کشمیری مجاہدین نے اپنی جدوجہد تیز کی، بھارتی میڈیا نے حسب سابق پھر سے توپوں کے دہانوں کا رُخ پاکستان کی جانب کردیا ہے۔ پونچھ کے جنگلات میں ہونے والی اس تاریخی اور طویل ترین جھڑپ میں ہزاروں کی تعداد میں بھارتی فوجی، سپیشل فورسز سے وابستہ کمانڈوز، سی آر پی ایف اور بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ اس دوران ڈرون کے علاوہ جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، مگر میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیری مجاہدین بار بار اپنی پوزیشنیں تبدیل کرکے بھارتی فوجیوں کی لاشیں گرارہے ہیں۔ اب تک تیس کے قریب اہلکار اور افسر اس جھڑپ میں مارے جاچکے اور پورے جنگل کا مکمل محاصرہ کرنے کے باوجود بھارتی فوج کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ میڈیا رپورٹس میں درست لکھا گیا کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ایجنٹوںکے قتل اور پونچھ میں طویل ترین جھڑپ کے بعد فورسز اہلکاروں اور بی جے پی جیسی تنظیموں سے وابستہ درندوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ بھارتی فوج کا مورال بلند رکھنے کے لئے بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم نروا نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے کھڑے ہوکر سرحدی علاقے کا جائزہ لیا۔ اسی طرح بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی جلد مقبوضہ کشمیر کا دورہ کررہے ہیں۔ دیکھا جائے تو پچھلے ایک ماہ میں کشمیری مجاہدین اور عوام نے جس جرأت مندانہ انداز میں بھارتی فوج کا مقابلہ کیا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آنے والے دنوں میں تحریک آزادی میں مزید تیزی آئے گی اور بھارتی فورسز اہلکاروں کو کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول جن کی نگرانی میں پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کو ہر قسم کے وسائل اور سرمایہ فراہم کیا جاتا رہا، اب ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ پونچھ جھڑپ کے دوران انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان، چین، روس اور ایران وغیرہ کے وزرائے خارجہ اور داخلہ کو ایک ساتھ بیٹھ کر خطے کے معاملات کا جائزہ لینا چاہیے۔اگرچہ بھارتی حکومتی ذمے داران دنیا کو دکھانے کیلئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں جاری عسکریت پسندی پر قابو پالیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شکست خوردگی اب انکے چہروں پر واضح دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کی خطے میں موجودگی ان کا آخری سہارا تھی جو شکست کھاکر یہاں سے راہ فرار اختیار کرچکا۔ کشمیرکی جدوجہد آزادی اس وقت جو رخ اختیار کررہی ہے، ان حالات میں بھارت کے لئے زیادہ دیر تک مقبوضہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ بھارت اگر کشمیریوں کے ہاتھوں مزید نقصان سے بچنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ہرمیت کور کی نصیحت پر عمل کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے ورنہ یہ بات نوشتۂ دیوار بن چکی کہ غاصب بھارت کو جلد سے جلد کشمیر چھوڑنا پڑے گا، اس کے علاوہ بھارت سرکار کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔