29 نومبر 2021
تازہ ترین

مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور مظاہرے مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ اور مظاہرے

مغربی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہاں ٹیکس کلچر کا فقدان ہے۔ کاروباری طبقہ اور عام لوگوں کی حتی المقدور کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح سے ٹیکس دینے سے چھٹکارا حاصل کرلیں، حالانکہ ریاست کا نظام چلانے کے لئے محاصل ناگزیر ہے۔ ملک میں ٹیکسوں کی وصولی کا کوئی قابل عمل نظام نہ ہونے اورکچھ سیاسی حکومتوں کا تاجر طبقے سے اپنے مفادات کا حصول ٹیکس وصولی میں ہمیشہ رکاوٹ رہا ہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ حکومت کو بیرونی قرضوں کا بوجھ اتارنے اور حکومتی نظام چلانے کے لئے ٹیکسوںکی شرح میںاضافہ کرنا پڑرہا ہے، اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے مہنگائی کے مارے عوام پر ٹیکسوں کا یک دم بوجھ ڈالنا قرین انصاف نہیں۔ حکومت کی مجبوری اپنی جگہ، اگر ٹیکس وصولی پر توجہ نہ دی جائے تو ریاستی مشینری مفلوج ہوجائے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اگر ٹیکسوں کی وصولی کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی جاتی تو عوام پر ٹیکسوں کا یکمشت بوجھ نہ پڑتا۔ بدقسمتی سے ملک کو ہمیشہ آئی ایم ایف کا دست نگر رہنا پڑتا ہے، آئی ایم ایف سے قرض لیں گے تو شرائط ان کی ماننا پڑیں گی۔ ہم موجودہ حکومت کی طرف سے ٹیکس وصولی کے اقدامات سے مطمئن ضرور ہیں، تاہم آئے روز ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور مہنگائی کے طوفان نے غریب عوام کا جینا اجیرن کردیا ہے۔ حکومت کئی عشروں کا ٹیکس وصولی کا ٹارگٹ اپنے دور میں پورا کرنے کی طرف گامزن ہے۔ نواز دور میں اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں پر وِد ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ہوا۔ تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو سب سے احسن اقدام کیا، اس میں بیرون ملک سے رقوم بھیجنے والے ہم وطنوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ تھا، اس کے ساتھ اندرون ملک لوگوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا۔ چند ماہ پہلے فائلر اور نان فائلر پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ یہ بھی کہیں کا اصول نہیں، کہ عوام پر یکمشت ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، دوسری جانب ٹیکسوں کی بھرمار سے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنا فوکس ٹیکس وصولی پر رکھا ہے، جو ملکی مفادات کے لئے بہت اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ عوام کی آمدن بڑھانے کی طرف اسی حساب سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کے ٹیکس وصولی کے اقدامات سے ایک بات واضح ہے، ملک میں کوئی شہری اب ٹیکس ادا کرنے سے بچ نہیں سکے گا۔ حال ہی میں ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں ایسے ٹیکس گزار، جن کا نام ایکٹوپیئر میں نہیں ہوگا، انہیں سو فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ملک کے اندر اشیاء اور خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں سو فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ بجلی کا انفرادی طور پر بل 25 ہزار سے زائد ہونے کی صورت ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح اب 15 فیصد کردی گئی ہے۔ اب تو ایسے شہری جو قسطوں پر پلاٹ خریدیں گے، ان پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھاکر دو فیصد کردی گئی ہے۔ آئندہ کسٹمز ڈیوٹی، سیلزٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل کرنے کے بعد درآمدی اشیاء کی مالیت پر ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ایف بی آر نے نیا ود ہولڈنگ ٹیکس کارڈ جاری کردیا ہے۔ بارہویں شیڈول کے تحت درآمدات کرنے والے نان فائلر کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح ایک سے بڑھاکر دو فیصد کردی گئی ہے۔ اسی طرح تیار شدہ ادویہ درآمد کرنے پر ٹیکس کی شرح 4 سے بڑھاکر 8 فیصد کردی گئی ہے۔ ٹیکس وصولی کے حکومتی اقدامات نے پی ڈی ایم کے مُردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے نے پی ڈی ایم کو حکومت کے خلاف متحد کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے، وگرنہ اپوزیشن جماعتیں پہلے مظاہروں کا اعلان کیوں نہیں کرسکیں۔ جب پی ڈی ایم نے ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کردیا تو حکومت کو بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کی سوجھی۔ اب مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات دئیے گئے تو پہلے بھی دئیے جاسکتے تھے۔ اب تو پیپلز پارٹی نے بھی انفرادی طور پر مہنگائی کے خلاف مظاہروں کی کال دے دی ہے۔ حکومت مخالف جماعتوں کو اس سے اچھا اور کوئی موقع نہیں مل سکتا تھا، جو حکومت نے خود انہیں فراہم کردیا ہے۔ مغربی ملکوں میں بھی جب اس طرح کی صورت حال سے عوام دوچار ہوں تو اپوزیشن کو برسراقتدار حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اچھا موقع فراہم ہوجاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے اشیائے خورونوش کا کم از کم چھ ماہ کا سٹاک حکومت کے پاس ہونا چاہیے، بدقسمتی سے اس حکومت کے پاس نہ تو کوئی تجربہ کار منصوبہ ساز ہے اور نہ ہی حکومتی مشینری چلانے کیلئے کوئی قابل ٹیم موجود ہے۔ اب دیکھتے ہیں، پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے چاروں صوبوں میں ہونے والے مظاہروں کا حکومت پر کیا اثر ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم نے تو نیب آرڈیننس اور انتخابی اصلاحات کے لئے حکومتی ترامیم کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ہم اس سے پہلے اپنے کالموں میں پی ڈی ایم کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے ناکام قرار دیتے رہے ہیں۔ کوئی سچ پوچھے تو عوام مہنگائی اور ٹیکسوںکے بوجھ سے عاجز آگئے ہیں۔ اگر حکومت مہنگائی پر نظر رکھ کر پوری طرح کنٹرول کرلیتی تو ٹیکسوں کی بھرمار سے عوام اتنے عاجز نہیں آتے، جتنا وہ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ اپنے ملک میں پیدا ہونے والی سبزیوں کی ہوش ربا قیمتوں کے باعث عوام فاقوں مررہے ہیں۔ حکومت بھوکوں کو کھانا مہیا کرنے کے لئے جو رقم پناہ گاہوں پر خرچ کررہی ہے، وہی رقم سبسڈی کی صورت اشیائے خورونوش پر دے دی جاتی تو شاید آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ حکومت کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے، اگر وہ اس مختصر عرصے میں عوام کی خوش حالی کے لئے مثبت اقدامات کرلے تو آئندہ انتخابات میں کامیابی کی توقع رکھ سکتی ہے، وگرنہ ناکامی موجودہ حکومت کا مقدر ٹھہرے گی۔