29 نومبر 2021
تازہ ترین

سرکاری بھرتیاں اور مصلحتیں سرکاری بھرتیاں اور مصلحتیں

سکول اساتذہ کی بھرتی کے لئے اہتمام کے ساتھ ٹیسٹ کرائے گئے۔ 4 لاکھ سے زائد امیدوار تھے جب کہ خالی اسامیاں 46 ہزار سے کچھ زائد۔ جب ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو صوبائی حکومت میں شامل عناصر کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ ٹیسٹ کے جو نتائج آئے ہیں، اس کی روشنی میں تو لوگ بھرتی نہیں ہوسکیں گے۔ حکومت ٹیسٹ کے ان نتائج کو مایوس کن قرار دیتی ہے، اس لئے کہ پرائمری ٹیچر کی بھرتی کی خاطر صرف 13 ہزار افراد نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی۔ یہ تعداد اس لحاظ سے تو درست ہے کہ ٹیسٹ لیا گیا، جو اہل لوگ تھے وہ کامیاب ہوگئے۔ حکومت نے یہ پالیسی بناکر دی تھی کہ امیدوار کا مجموعی نتیجہ 55 فیصد ہو اور ہر مضمون میں کامیاب نمبر 45 ہوں ۔ حکومت کی دی گئی پالیسی اور ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خود حکومت کے ہاتھ پائوں پھول رہے ہیں۔ سندھ میں حکومت کو یہ عادت پڑ گئی ہے کہ ہر علاقے سے ’’اپنے‘‘ لوگوں کو ہی بھرتی کیا جائے۔ ٹیسٹ کے نتائج کی روشنی میں تو ان کی مرضی پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پالیسی کو نرم کردیا جائے۔ نرمی کا فیصلہ بھی کابینہ کو کرنا ہوگا۔ کابینہ کیوں کر انکار کرے گی، کیوںکہ حکومت کی خواہش ہے کہ تمام بھرتیاں کردی جائیں، خواہ پالیسی کو کتنا ہی نرم کیوں نہ کرنا پڑے۔ اگر حکومت کو اپنی بنائی ہوئی پالیسیوں سے قدم قدم پر سمجھوتہ ہی کرنا ہے تو پھر پالیسی بنانے ہی کی کیا ضرورت تھی۔ چار لاکھ امیدواروں کا ٹیسٹ لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ٹیسٹ کے لئے ہر امیدوار سے فیس وصول کی گئی تھی۔ ٹیسٹ کا انعقاد سکھر آئی بی اے یونیورسٹی سے کرایا گیا تھا۔ ٹیسٹ کے جھمیلے سے بچنے کے لئے کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ 46 ہزار افراد کی بھرتی بھی اراکین اسمبلی کی سفارش پر کردی جاتی۔ جب اہلیت کی ضرورت ہی نہیں تو پھر ٹیسٹ وغیرہ کرانے کی زحمت ہی کیوں کی گئی۔ پالیسی میں نرمی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ٹیسٹ کا دوبارہ انعقاد کرایا جائے۔ اگر لوگ اہلیت پر پورے نہیں اترتے تو انہیں کچھ مہلت یا وقت دے کر دوبارہ ٹیسٹ دینے کے لئے کہا جائے۔ پالیسی میں نرمی تو اہلیت کا قتل ہے، جس کی صوبہ سندھ میں کسی کو فکر نہیں۔ پالیسی میں نرمی کرنے کا فیصلہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہے، جنہوں نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی اور ان تمام لوگوں کی ہمت افزائی ہے جو ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سندھ میں سرکاری پرائمری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے اگر گفتگو کی جائے یا ان سے سندھی، اردو یا انگریزی الفاظ پوچھے جائیں تو انہیں علم ہی نہیں ہوتا، اسی طرح جیسے پہلے سے بھرتی شدہ پرائمری اساتذہ کا معاملہ ہے کہ ان میں سے بہت سوں کو انگریزی میں سکول، ٹیچر، فلیگ وغیرہ کی ہجے نہیں آتی۔ ایسی تعلیم اور ایسے اساتذہ کا کیا فائدہ۔ اگر ملازمت دے کر صرف تنخواہ دینا ہی مقصود ہے تو ایسے اساتذہ کو گھر بیٹھے ہی تنخواہ پہنچادی جائے، سکول آنے کی زحمت بھی کیوں دی جاتی  ہے۔ جس بڑے پیمانے پر سفارش کی بنیاد پر اساتذہ اور پولس میں بھرتیاں ہوتی رہی ہیں، یہ اس کا خمیازہ ہے۔ حکومت کو ٹیسٹ لینے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پابند کیا تھا۔ سابق وزیراعظم مرحوم محمد خان جونیجو کے دور میں تو یہ بھی ہوا تھا کہ اسمبلی میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لئے صوبائی اسمبلی کے اساتذہ اور پولیس کی بھرتی کے لئے فی رکن تعداد مقرر کردی گئی تھی اور اراکین سے نام طلب کرلئے گئے تھے، جو نام گرامی اراکین نے فراہم کیے، ان لوگوں کو بھرتی کردیا گیا تھا۔ ہر حکومت اسی طرح سے بھرتی اور تقرریاں کرتی رہی ہے۔ کیا خاک قابلیت ہوگی۔ پولیس اور استاد کا عہدہ ہی تو اہمیت کا حامل ہوتا ہے، لیکن ایسے انگوٹھا چھاپ لوگ بھرتی کیے جاچکے تھے کہ انہوں نے پوری نسل کو ہی ایسی خرابی سے دوچار کردیا، جس کا کسی حال تدارک ممکن ہی نہیں۔ بعد کے ادوار میں اراکین سے نام تو طلب نہیں کیے گئے، لیکن سفارش پر بھرتی کا سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری رہا۔ عجیب معاملہ ہے کہ عام لوگ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور استاد یا پولیس کی ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں، کیوںکہ یہ آسان ملازمتیں ہیں۔ استاد کو آدھے سال سے کہیں زیادہ تعطیل کی سہولت ہوتی ہے اور پولیس والا تو سمجھتا ہے کہ اسے لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ سندھ کے ایک سابق آئی جی اے ڈی خواجہ سے صوبائی حکومت اس لئے ناراض ہوگئی تھی کہ انہوں نے آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی سفارشوں پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا، جس پر فریال نے کہا تھا کہ ہمیں آئندہ انتخابات میںکامیابی حاصل کرنا ہے۔ خواجہ نے ٹیسٹ وغیرہ کے بعد ان ہی لوگوں کی بھرتی کی تھی جو اہل ثابت ہوئے تھے۔ خواجہ کی یہ ادا حکومت کو پسند نہیں آئی اور انہیں صوبہ بدر کردیا گیا۔ ہر اس افسر کو صوبہ بدر کردیا جاتا، یا پھر ’’کھڈے لین‘‘ لگادیا جاتا ہے، جو اہلیت اور قابلیت کی بات کرتا ہے۔ نااہل افراد کی بھرتیوں نے صوبوں میں ہر محکمے کو تنزلی کی راہ پر لگادیا ہے۔ سرکاری محکموں میں ملازمین کا ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ ہر ہر کام کے پیسے کس طرح حاصل کیے جائیں۔ کسی بھی محکمے کا جائزہ لے لیں، وہاں فائل نکلوانے تک کے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ حکومت کسی طرح کی بھی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ ملک بھر میں اہلیت اور قابلیت کا اصول کارفرما رکھنا ہی بہتر ہوگا۔