29 نومبر 2021
تازہ ترین

عظیم ترین انقلاب… عظیم ترین انقلاب…

کلاسیکی عہد کی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اسی عہد میں انسانی تہذیب نے ابتدائی مراحل طے کیے اور اس کے اثرات نسل درنسل منتقل ہوتے رہے۔ دریائی تہذیبیں ابتدا میں محدود علاقے میں تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان میں پھیلائو آیا۔ چین کی یلوریور تہذیب بڑی سلطنتوں کی بنیاد بنی۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب نے ہندوستان کو متاثر کیا۔ بحیرۂ روم کے ساحل پر یونانی اور رومی تہذیبوں نے ایک نئی تہذیب کو جنم دیا۔ اس لئے یہ تہذیبیں ایک جگہ پر نہیں رہیں، اپنے ہمسایوں اور دوردراز کے علاقے ان کے زیر اثر آئے۔ یورپ کی تہذیب پر میسوپوٹامیہ اور مصر نے اس کے خدوخال بنانے میں مدد دی۔ دریائی تہذیبوں نے سیاسی حالات کو بھی متاثر کیا، چین جو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بالآخر اسے چن ڈانسٹی نے متحد کرکے مرکزی ریاست کی بنیاد ڈالی۔ مرکزیت کی یہ روایت دوسرے حکمران خاندانوں میں بھی جاری رہی، جس نے ریاستی اداروں کو جنم دیا۔ بحیرۂ روم کے علاقے میں یونان مختلف شہری ریاستوں میں بٹا ہوا تھا، لیکن یونانی سویلائزیشن کا اثر Ayunia اور Iran تک پہنچا، جب رومی سلطنت وجود میں آئی تو ایک لحاظ سے یہ اپنے وقت کی عالمی ایمپائر تھی، جو مشرق اور مغرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ قدیم چار مشرقی تہذیبیں ہیں، یعنی چین، ہندوستان، پرشیا اور بحیرۂ روم۔ ان چار تہذیبوں کے درمیان بہت سی مشترک باتیں ہیں۔ ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ یورپی تہذیب صرف یونان اور رومی اثرات سے متاثر ہوئی تھی، کیونکہ یہ دونوں تہذیبیں بھی دوسری تہذیبوں کا حصہ تھیں۔ اگرچہ یہ علیحدہ علیحدہ بھی تھیں مگر ان میں باہمی اشتراک بھی تھا۔ دریائی تہذیبوں کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ان کی آبادی میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ ایران کی حیثیت ان تہذیبوں میں مختلف رہی تھی۔ سائرس کے عہد میں ایران ایک بڑی سلطنت بنا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کا نظام بھی عمل میں آیا۔ سلطنت کی معلومات کے حصول کے لئے ایران نے شاہراہیں تعمیر کرائیں، جگہ جگہ ڈاک چوکی کا انتظام کیا اور ایک طاقتور فوج کے ذریعے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ ہندوستان، مصر اور بابل کو فتح کیا، مگر یونان کو فتح نہیں کرسکا، لیکن ایرانی سلطنت کو اس وقت صدمہ پہنچا جب سکندر نے اس کو فتح کرکے اس کا خاتمہ کیا۔ دوسری بار ساسانی عہد میں عربوں نے اسے فتح کرکے اس کا خاتمہ کیا، لیکن موجودہ ایران آج بھی اپنی پرانی عظمت کو یاد کرتا اور اس کا اظہار اس کی انقلابی جدوجہد سے ہوتا ہے۔ ہندوستان کی تہذیب میں اُس وقت تبدیلی آئی جب یہاں آریا لوگ آئے، انہوں نے ہندو مذہب کی روایات اور رسم و رواج کو پیدا کیا۔ موریا سلطنت نے پہلی مرتبہ ہندوستان کو سیاسی طور پر متحد کیا۔ اس کے بعد گپتا پیریڈ میں ایک بار پھر ہندو مذہب کا احیاء کرکے اس کے قوانین اور ضوابط کو نافذ کیا۔ چین میں کنفیوشس نے اتھارٹی کا ایک نظام مرتب کیا، جس پر چل کر چین کسی نہ کسی شکل پر آج بھی قائم ہے۔ ڈائوازم بھی اگرچہ چین میں ایک فلسفے کی حیثیت سے رہا، مگر وہ زیادہ مقبول نہیں ہوسکا۔ چینی تہذیب کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ یہ دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں سیکولر تھی جب کہ ہندوستان میں بدھ ازم، جین ازم اور ہندو مذہب کا اثر معاشرے پر گہرا تھا، جس کی وجہ سے یہ سیکولر نہیں بلکہ مذہبی تھا۔ چین کی تہذیب وقت کے ساتھ کلاسیکل پریڈ میں پختہ ہوئی، اس کا سیاسی نظام اور ریاست کے ادارے وقت کی ضرورت کے لحاظ سے عملی طور پر کامیاب رہے۔ مثلاً چین نے اپنے رسم الخط کو سادہ بنایا، ملک میں امن و امان کے لئے قوانین کا نفاذ کیا۔ دنیا میں سب سے پہلے بیوروکریسی کا ادارہ قائم کیا، جس میں سخت مقابلے کے بعد امیدواروں کا انتخاب ہوتا تھا۔ سلطنت میں مرکزیت تھی۔ مختلف وزراء انتظام سلطنت کو دیکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی ترقی ہوئی، جس کی وجہ سے چین دنیا کی تہذیب میں اوّل نمبر پر تھا۔ ہندوستان میں اگرچہ تہذیبی ترقی ضرور ہوئی مگر اس کا فوکس مذہب تھا۔ ہندوستان نے ریاضی میں بے حد مہارت حاصل کی اور زیرکو سو دریافت کیا۔ ٹیکسلا یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء تعلیم کے حصول کے لئے آتے تھے۔ کلاسیکل پریڈ میں تاجروں کی سرگرمیاں بھی اہم رہیں۔ اگرچہ کنفیوشس تاجروں کو ناپسند کرتا تھا، کیونکہ یہ اس کے نزدیک محض منافع کے لئے کام کرتے تھے۔ اس لئے چینی معاشرے میں ان کا مقام گرا ہوا تھا۔ اس کے برعکس ہندوستان میں خاص طور سے اس کے جنوبی علاقوں میں تاجروں کی بہت اہمیت تھی اور یہ بحرہند میں سفر کرکے جنوبی مشرقی ملکوں میں جاتے تھے۔ کلاسیکل عہد کی تہذیبوں نے ایک دوسرے پر تین قسم کے اثرات ڈالے، سب سے پہلے معاشی طور پر صنعتی تبادلے میں اور تجارت نے تہذیبوں کو آپس میں ملانے میں مدد دی۔ دوسرا اثر کلچر کا تھا، جس میں تہذیبوں نے اپنی کلچر روایات کو روشناس کرایا، جس کی وجہ سے رسم و رواج اور مذہبی اور سیاسی اداروں سے واقفیت ہوئی۔ تیسرا اثر سیاست کا تھا۔ ایک جانب تو تہذیبوں نے ایک دوسرے کے سیاسی نظام سے واقفیت حاصل کی تو دوسری طرف جنگوں اور لڑائیوں میں تہذیبوں کے درمیان تصادم پیدا کرکے ایک دوسرے کے خلاف ہوئے۔ کلاسیکل تہذیبوں نے اپنے ورثے میں جو ادارے اور روایات چھوڑیں، وہ وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی موجودہ زمانے تک آئی۔ ان روایات میں معاشرے کا طبقاتی ہونا بھی ہے۔ امراء کا طبقہ مراعات یافتہ اور سب سے اعلیٰ سمجھا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ذات پات نے اس کو مذہبی جواز دے دیا تھا، جس کی وجہ سے عام لوگ محرومی اور غربت کا شکار رہے اور معاشرے میں ان کے لئے کوئی باوقار جگہ نہ تھی، یعنی تہذیبی ترقی نے ان کی زندگی کو نہیں بدلا، نہ ایجادات اور ٹیکنالوجی ان کی مدد کو آئیں اور نہ ہی وہ تاجروں کے منافع میں شریک ہوئے۔ حکمران طبقوں نے اپنی حیثیت کو بحال رکھنے کے لئے کلاسیکل عہد کی سیاست سے فائدہ اٹھایا۔ کہیں ان کا ہیرو اشوک تھا اور کہیں سیزر اور آگسٹس، لیکن اس شاندار ماضی نے لوگوں کو بدحال ہی رکھا، لیکن بہرحال کلاسیکل تہذیبوں کے مطالعے سے یہ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ مجموعی طور پر امیر و غریب ان دونوں نے مل کر اپنے حالات کو بدلا اور تہذیب میں نئے نئے اضافے کرکے اس کو وسعت دی۔ یہ مجموعی طور پر انسانی ذہن کی پیداوار تھی۔ اگرچہ تاریخ صرف اس کا صلہ حکمران طبقوں کو دیتی ہے، وہ کاریگروں، فنکاروں، کسانوں اور مزدوروں کو بھول جاتی ہے کہ جنہوں نے تہذیب کی آبیاری میں حصہ لیا تھا۔