29 نومبر 2021
تازہ ترین

مہنگائی فیکٹر اور عوام کا اعتماد مہنگائی فیکٹر اور عوام کا اعتماد

ملک میں مہنگائی کی حالیہ لہر اس حوالے سے عوام پر قہر بن کر نازل ہوئی کہ اشیائے خورونوش مہنگی ہونے کے ساتھ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا۔ اگرچہ مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر آنے والے شدید عوامی ردّعمل کے نتیجے میں حکومت نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ اتنا زیادہ ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کے باوجود مہنگائی کے اثرات زائل نہیں ہوسکیں گے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مہنگائی میں کمی کا امکان نہیں، کیوںکہ گرانی میں حالیہ اضافہ ملکی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ اسد عمر کے مطابق کرونا کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں طلب اور رسد کے فرق اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج اضافے سے امریکہ ، چین اور بھارت سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ریکارڈ مہنگائی ہوئی ہے۔ ماہرین آنے والے چند ماہ میں عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کررہے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی مہنگائی کی صورت برآمد ہوگا۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی کی اس شدید لہر کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ واضح رہے کہ مہنگائی کی حالیہ لہر کے بعد عوام حکومت کے ساتھ اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے نظر آئے تھے کہ وہ مہنگائی جیسے عوامی ایشو پر احتجاج نہیں کرتی۔ اگرچہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ سال مہنگائی سمیت جامع احتجاج کا پروگرامز تشکیل دیا تھا، لیکن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے میں اختلافات سامنے آنے پر پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑگئی تھی، جس کے باعث وقتی طور پر اس تحریک کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ مہنگائی کی حالیہ لہر اور دگرگوں معاشی حالات نے اپوزیشن جماعتوں کو پھر سے حکومت پر دبائو بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بلاشبہ کرونا فیکٹر کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لیکن پاکستان میں ہونے والی مہنگائی محض کرونا فیکٹر تک محدود نہیں۔ معیشت کو درست ڈگر پر لانے کے نام پر موجودہ حکومت نے شروع سے ہی سخت فیصلے کیے، جس کی قیمت عوام کومہنگائی کی صورت اتارنا پڑی۔ سابق حکومتیں اشیائے خورونوش سمیت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں سبسڈی دے رہی تھیں، لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی بجلی اور گیس سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء پر سبسڈیز بتدریج ختم کرنا شروع کردیں، جس سے غریب عوام کے ساتھ سفید پوش طبقے کی زندگیاں بھی اجیرن ہوتی گئیں۔ کرونا کے ابتدائی دنوں میں عالمی سطح پر لگنے والے لاک ڈائون کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی، لیکن حکومت عوام کو اس ضمن میں کوئی خاطرخواہ ریلیف نہ دے سکی۔ گذشتہ سال حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو تین بار مسلسل کمی کی تو پٹرول مافیاز نے پٹرول پمپس پر پٹرول نایاب کرتے ہوئے حکومت کو اپنی مرضی کی قیمت مقرر کرنے پر مجبور کردیا، جس کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ 25 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت بڑھی۔ پٹرول مافیاز کے سامنے سرنڈر کرنے سے پہلے آٹا اور چینی مافیاز کے سامنے بھی گھٹنے ٹیکے گئے، اس کے بعد ادویہ مافیا نے اپنی مرضی کے اضافے کے لئے جان بچانے والی ادویہ کو بازار سے غائب کرادیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے تین سال میں ادویہ کی قیمتوں میں چار بار اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں بعض دوائوں کی قیمتیں 4 سو فیصد تک بڑھ گئیں۔ اس وقت یہ ساری باتیں آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے موجودہ حکمراں عوام کو مافیاز سے نجات دلانے کے دعوے کرتے تھے، لیکن مسندِ اقتدار پر فائز ہو کر وہ آٹا، چینی، پٹرول اور ادویہ مافیاز کے آگے ایک ایک کرکے سرنڈر کرتے گئے۔ آج وزیراعظم صاحب اپنی تقریروں میں بار بار مافیاز کے طاقت ور ہونے اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اقتدار کے حصول سے قبل اور حکومت ملنے کے ابتدائی چند ماہ میں متعدد بار تبدیلی کے دعوے کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکمراں جماعت ملک میں دو نہیں ایک پاکستان کا خواب حقیقت میں بدلے گی، انہوں نے عوام کو مافیاز سے نجات دلانے کا عزم بھی کیا تھا۔بلاامتیاز احتساب کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے انقلابی اقدامات کرنیکی نویدیں بھی سنائی تھیں۔ عمران خان سکولوں سے باہر دو کروڑ بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے بھی پریشان تھے۔ سب سے بڑھ کر وہ معاشرے میں نچلے طبقے کو اوپر لانے کی باتیں کرتے تھکتے نہیں تھے لیکن عملی طور پر کسی بھی معاملے میں ابھی تک ایساکچھ نہیں کرسکے جسے حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی کہا جاسکے۔ خصوصاً اس کمر توڑ مہنگائی نے غریبوں کیساتھ مڈل کلاسیوں کی بھی چیخیں نکال دی ہیں۔ لوگوں کی اکثریت شکوہ کناں ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اوسط ماہانہ خرچ میں 15 سے 20 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آمدن میں محض چار سے پانچ ہزار کا فرق پڑا ہے۔ وزیراعظم صاحب کو ادراک ہونا چاہیے کہ گوناگوں مہنگائی نے عوامی سطح پر انکی حکومت اور جماعت کی پذیرائی میں خاطرخواہ کمی کردی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا دفاع کرنیوالے بہت کم رہ گئے ہیں۔مہنگائی کے معاملے پر ان کے حمایتیوں اور عقیدت مندوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔ خدارا عوام پر گوناگوں مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لئے کچھ بڑے اقدامات کیے جائیں۔ ریاست یا حکومت پر عوام کا اعتماد کس قدر اہمیت رکھتا ہے، اس کے لئے ایک واقعہ گوش گزار کیے دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ چینی دانش ور کنفیوشس سے بادشاہ وقت نے پوچھا، ریاست کو چلانے کے لئے کون سی تین چیزیں ازحد ضروری ہیں؟ کنفیوشس نے جواب دیا، ’’روٹی، فوج اور عوام کا اعتماد‘‘ بادشاہ نے عرض کیا کہ اگر ریاست بحالتِ مجبوری ان میں سے ایک چیز نہ دے تو ان میں سے کس چیز کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، فوج کے بغیر ریاست چل سکتی ہے۔ بادشاہ نے پھر عرض کیا کہ اگر ریاست ان میں سے دو چیزیں نہ دے سکے تو؟ کنفیوشس نے کہا، فوج اور روٹی کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے لیکن اگر ریاست عوام کا اعتماد کھودے تو ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔