05 دسمبر 2021
تازہ ترین

ریڈیو ملتان کے 51 سال ریڈیو ملتان کے 51 سال

الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ، تصویر کے بغیر چلتی پھرتی مجسم آواز ہم نے ریڈیو سے سنی اور پھر بولنا سیکھا۔ موسیقی میں خوشی، غم، حیرت اور اداسی کے سارے رنگ ہواؤں کے دوش پر ہماری سماعتوں تک پہنچتے۔ اردو، انگریزی اور تمام علاقائی زبانوں میں نشر ہونے والے پروگرام اپنا اپنا لہجہ لئے ہوتے۔
صبح کے وقت آواز سنہری رنگ لئے سماعتوں میں اترتی تو رات کا سُرمئی آنچل ریڈیو کی آواز کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیلا ہوتا۔ ریڈیو ہی تھا، جس نے اندر سے توڑ دینے والی خبروں کو حوصلے اور امید میں بدلے رکھا اور اُس وقت تک قوم کا اعتماد سنبھالا جب تک نتیجہ جادو کی طرح سر چڑھ کر نہ بول اٹھا۔ ہم نے سخت سے سخت بات کو قابل برداشت کرکے بیان کرنے کا ہُنر بھی ریڈیو سے سیکھا۔
پسندیدہ آوازوں میں اپنا نام ریڈیو پر سننا صرف ایک خط کا متقاضی ہوتا۔ طارق شاہ، ریاض میلسی، قمر حسین، شمشیر حیدر ہاشمی اور ایسی بہت سی آوازوں کو سماعت کے تسلسل نے ہمارا دوست بنا رکھا تھا۔ ہم نے اپنے گاؤں کے ایک بوسیدہ کمرے کے باہر لٹکتے سرخ ڈبے میں بہت سے خطوط ڈالے اور پھر ہفتہ دس دن بعد اس مشق کا ثمر اس شکل میں ملا کہ ہمارا نام ریڈیو پر سب نے سنا اور صبح سکول کے اساتذہ نے ہمارے ذوق کو بھی سراہا۔ توجہ کا یہ عالم ہوتا کہ بہت تیزی سے لیا گیا نام بھی ہمیں ایک اعزاز لگتا۔
ریڈیو پر موسیقی سننا ہمارے ابا جی کو عیاشی لگتا، اس لئے ہم خبر اور تبصروں کی آڑ میں وہ سب کچھ سنتے جسے جی چاہتا۔ جب ایف ایم چینلز کی بھرمار ہوئی اور لہجہ بگاڑ کر بولتے آر جے، زبان و بیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے لگے تو یوں لگتا جیسے کوئی قدیم مکتب کی عمارت ڈھائے جاتا ہے۔
ریڈیو ملتان کی 51 ویں سالگرہ پر اسٹیشن ڈائریکٹر آصف خان کھیتران نے شہر کے معززین میں ہمارا شمار کرتے ہوئے بلاوا بھیجا تو ہم یوں گئے جیسے کوئی واپس نہ جانے کے لئے جائے۔ تقریب کو شاکر حسین شاکر نے خوبصورتی سے سنبھالے رکھا اور آنے والوں کو لمحہ بہ لمحہ اہم ہونے کا احساس دلاکر پاؤں میں زنجیر ڈالے رہے۔ موسیقی کا آغاز کچھ شوقیہ گائیکوں کی غیر پیشہ ورانہ آوازوں سے ہوا، یہ بھی ضروری تھا کہ توازن تو کائنات کا پہلا خاصا ہے۔
ملتان کی پہچان مادام ثریا ملتانیکر، استاد صغیر، جبار مفتی، شوکت اشفاق، رضی الدین رضی، قمر رضا شہزاد، 
نوازش علی ندیم نے اس سالگرہ تقریب کو معتبر کیا اور راحت ملتانیکر، نادیہ ہاشمی، ثوبیہ ملک، سجاد جہانیہ، ناصر محمود شیخ، ندیم مغل نے براہ راست حاضرین اور سامعین کی سماعتوں میں رس گھولا۔ طارق شاہ، قیصر نقوی، ریاض میلسی، نسرین فرید کی موجودگی نے یہ احساس دلائے رکھا کہ آج بھی ریڈیو کے عروج کا زمانہ ہے۔ صنعت کار چوہدری ذوالفقار علی انجم تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ محمود جاوید بھٹی اپنے دبدبے سمیت فنکاروں کو داد دیتے رہے۔
آصف خان کھیتران نے ایک بھرپور تقریب میں ریڈیو کی سالگرہ کا اہتمام کرکے آواز والوں کو روبرو کردیا۔ ہتھوڑے کی طرح خبر کی ضربیں لگاتے مقامی نیوز کاسٹر، پروگراموں کو ترتیب دیتے اناؤنسرز، میزبان، پروڈیوسر اور سازندے سبھی ہواؤں کے دوش سے اتر کر چلتے پھرتے دیکھے گئے۔
ایک خوبصورت شام، ہمیشہ یاد رہ جانے والی محفل میں بدل گئی۔ سالگرہ کا کیک انہوں نے کاٹا جن کی عمریں ریڈیو ملتان سے زیادہ تھیں، اللہ پاک انہیں سلامت رکھے۔ ریڈیو ملتان سے گونجتی پہلی آواز ’’یہ ریڈیو پاکستان ملتان ہے‘‘ والے قیصر نقوی آج پھر نوجوان لگ رہے تھے۔
سچی خبر کی آسان رسائی نے ہمیں نفسیاتی مریض کر چھوڑا ہے۔ کاش آج پھر کوئی نشریاتی ادارہ اندر سے توڑ دیتی معلومات کو امید میں بدل دے اور آخری دم تک ہمیں حوصلہ دے، موت سے پہلے قسط وار مار دیتے یہ ننگی خبروں والے چینلز کو کوئی ریڈیو پاکستان جیسی پردہ پوش پالیسی ہی سکھادے، کیونکہ سچ ہر بار اچھا نہیں ہوتا۔