05 دسمبر 2021
تازہ ترین

نسل کشی… نسل کشی…

ریاستی انتہاپسندی کے حوالے سے اس وقت یہ کہنا قطعی مشکل نہیں کہ بھارت اس وقت بعینہ اسرائیلی طرز پر انتہاپسندی کا شدت سے مظاہرہ کررہا ہے۔ بھارت جو درحقیقت کسی ایک قوم کا مجموعہ نہ کبھی تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا، البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ موجودہ بھارتی انتہاپسند حکومتی پالیسی کے بعد بھارت ان مختلف قومیتوں میں مزید منقسم ہوجائے اور حقیقتاً ہر مذہب کے ماننے والے، بھارت سے آزادی حاصل کرلیں، تاہم یہ مفروضہ اتنا سادہ نہیں کہ ہندو ہزار سالہ غلامی کے بعد آزادی حاصل کرکے باؤلے ہوئے جارہے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کردیں اور یہاں کے شہریوں کو بزور ہندو بنا ڈالیں یا کم از کم بھارت کو غیر ہندوؤں سے پاک کردیں۔ اس رویے کو سوائے نفسیاتی بیماری کے اور کوئی نام دینے سے قاصر ہوں، ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں بالعموم جب کہ امریکہ میں بالخصوص ٹرمپ دور کے بعد نسلی امتیاز کی بیماری پھر سے پھیل رہی ہے، البتہ کئی دوسرے ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں نسلی امتیاز یا مذہب کے بجائے عملی طور پر انسانیت کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس کی واضح مثالیں نیوزی لینڈ اور کینیڈا ہیں کہ جہاں مذہبی منافرت یا انتہاپسندی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف حکومتوں نے سخت اقدامات کیے ہیں اور مجرمان کو مقامی قوانین کے مطابق قرار واقعی سزائیں دی ہیں۔ ان ممالک کو بجاطور پر مہذب کہا جاسکتا ہے کہ جنہوں نے اپنے شہریوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتا اور نہ ہی اپنے معاشرے میں انتہاپسندی کو مضبوط ہونے دیا، بلکہ ایسی کسی بھی کاوش یا سوچ کو بروقت پنپنے سے روک دیا گیا۔ اس کے برعکس بھارت، اسرائیل میں تو ریاستی سرپرستی میں انتہاپسندی کا مظاہرہ ہورہا ہے جب کہ امریکہ میں کسی حد تک اس سوچ کو پروان چڑھایا جارہا اور ذہنی پس ماندگی کو فروغ دینے کی کوششیں بہرطور نظر آرہی ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ دنیا نے نفسیاتی طور پر جو ترقی کی تھی، وہ معکوس کی جانب گامزن ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور عین ممکن ہے کہ کچھ عرصہ میں طبقاتی تقسیم کے ساتھ مذہبی و نسلی تقسیم کرہ ارض پر نظر آئے، تاآنکہ اس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا۔
برصغیر، جس کو برصغیر ہی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہاں کبھی بھی ایک قوم کا تشخص نہیں رہا، بلکہ مختلف زبانوں و مذاہب کے لوگ یہاں آباد ہیں اور اپنا الگ طرز معاشرت رکھتے ہیں، البتہ ہندوؤں کا یہ دعویٰ ضرور ہے کہ ماضی بعید میں یہاں صرف ہندو آباد رہے، لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ دور غلامی میں ہندومت کے پیروکار، بیرونی حملہ آوروں یا حکمرانوں کے رنگ میں رنگے گئے، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہندو دھرم میں موجود ذات پات، عدم مساوات اور بہت حد تک غیر فطری عقائد کے باعث، ہندوؤں کی بڑی تعداد غیر ہندو ہوچکی ہے، لہٰذا آج کی دنیا میں یہ دعویٰ کرنا کہ ماضی میں ہندوؤں کی سرزمین ہونے کے ناتے، آج کے ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں، غیر ہندو پھر سے ہندو بن جائیں یا پھر بھارت کو چھوڑ دیں، ایک مضحکہ خیز دعویٰ لگتا ہے۔ بھارتی ریاست انتہائی تیزی اور غیر فطری انداز میں جس انتہاپسندی کی طرف گامزن ہے اور جس بہیمانہ طریقے سے اقلیتوں کا قتل عام کررہی ہے، عالمی برادری سے چھپی نہیں لیکن عالمی برادری، ایک بڑی منڈی کے ان غیر انسانی افعال پر خاموش ہے، البتہ اب غیر سرکاری تنظیمیں ان پر اپنے تحفظات کا اظہار بھرپور طریقے سے کررہی ہیں۔
یہی وہ حالات تھے، جن کو بھانپتے ہوئے قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا تھا، گو اس وقت بھی ایسی قدآور شخصیات موجود تھیں، جو تقسیم ہند کے خلاف تھیں اور ان کا مؤقف تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان زیادہ بہتر طریقے سے رہ سکتے ہیں۔ تحریک آزادی کے دوران مسلم قائدین کی یہ سوچ بلاوجہ نہ تھی، بلکہ ان کے نزدیک دو نکتے اہم تھے کہ ایک طرف وہ انگریزوں کو بیرونی مداخلت کار سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ انگریز کے نکلنے کے بعد مقامی معاملات یہاں کے شہری خود سلجھا سکتے ہیں اور اگر تقسیم کی ضرورت ہوئی تو باہمی رضامندی سے کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف ان کا یہ بھی خیال تھا کہ چونکہ مسلمانوں کی تعداد اتنی بھی کم نہیں کہ انہیں دبایا جاسکے، لیکن اگر تقسیم ہوتی ہے تو مسلمانوں کی طاقت کم ہوسکتی ہے اور یہی سوچ کسی نہ کسی حد تک کانگریس کے قائدین کی بھی تھی اور تقسیم ہند کو ناصرف غیر ضروری سمجھتے تھے، بلکہ اس کے سخت خلاف تھے۔شرح آبادی کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا تب بھی مسلمان اقلیت کی حیثیت ہی رکھتے تھے، البتہ مسلمانوں کی اکثریت کچھ علاقوں میں بلاشبہ موجود تھی اور اگر پارلیمانی جمہوریت کے تحت دیکھا جاتا تو بہرکیف مسلمانوں کی ایک معتدبہ تعداد 
پارلیمنٹ کا حصہ ضرور بنتی۔ ان حقائق سے مسلم لیگ کے اکابرین کسی بھی طور لاعلم نہیں تھے، لیکن قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ہزار سالہ غلامی کے بعد، ہندو اپنی تنگ نظری کا مظاہرہ ضرور کریں گے اور اقلیتوں کے لئے زندگی گزارنا مشکل ترین ہوجائے گا۔ آبادی کا تناسب دیکھا جائے تو برصغیر میں بسنے والے مسلمان پورے بھارت میں موجود ہونے کے باوجود، کسی بھی صورت اقتدار کا حصہ بننے سے قاصر تھے تو دوسری جانب یہ بھی واضح تھا کہ مسلمانوں کے اندر سے ہی کئی ایک قائدین ہندوؤں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرتے۔ آج بعینہ وہی حالات پورے بھارت میں نظر آرہے ہیں کہ ہزار سالہ غلامی کی زندگی گزارنے اور آزادی کے ابتدائی چند برسوں کے بعد، ہندو انتہاپسندی عود آئی اور آج بھارت کے کسی بھی کونے میں کسی بھی اقلیت کے لئے کوئی جائے پناہ نظر نہیں آتی۔
آج ہم پاکستان کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، لیکن آج بھی ہمارے اندر موجود کئی ایسے دانشور ہیں جو متحدہ ہندوستان کی طرف داری کرتے نظر آتے ہیں، ان کے نزدیک اس میں ان کے لئے ترقی یا پھولنے پھلنے کے زیادہ مواقع میسر ہوتے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی موجودہ صورت حال کو دیکھنے کے باوجود اس سراب میں کیوں مبتلا ہیں؟ ماضی میں جائیں تو یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ جب تک متحدہ پاکستان رہا، معاشی طور پر مستحکم رہا، یہاں کے حکمران قومی مفادات کو ترجیح دیتے رہے، بھارتی مسلمان بھی پاکستان کے بل بوتے پر بہتر زندگی گزارتے رہے، لیکن جیسے ہی پاکستان کمزور ہونا شروع ہوا، اس کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں، بھارت میں لبرل قوتیں کمزور ہوتی چلی گئیں اور مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوتی گئی۔ بتدریج انتہاپسند قوتیں غالب آتی رہیں اور آج 74سال بعد، بھارت میں لبرل قوتوں کا کردار قریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور جیسے جیسے انتہاپسند قوتیں طاقت پکڑرہی ہیں، ویسے ویسے ریاستی مشینری بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ اس پس منظر میں یہ کیسے ممکن تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان امن کی زندگی گزار سکتے، اپنے عقائد پر آزادی کے ساتھ عمل پیرا ہوسکتے، مسلم طرز زندگی اپنا سکتے؟ یہ ممکن ہی نہ تھا، بلکہ جو نسل کشی بھارت میں آج 74 برسوں بعد شروع ہوئی ہے، عین ممکن تھا کہ آزادی کے فوراً بعد اقلیتوں کی نسل کشی شروع ہوجاتی۔