05 دسمبر 2021
تازہ ترین

کالی اور سفید بھیڑیں کالی اور سفید بھیڑیں

ذوالفقار علی بھٹو کے زمانہ اقتدار، پھر بعد ازاں بے نظیر بھٹو کے زمانے میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرتی نظر آئیں، جنرل (ر) مشرف کے زمانے میں وہ زیادہ فعال ہوئیں، ان کے کردار کو بڑھایاگیا ورنہ اس سے قبل خواتین بس ماہر امور خانہ داری ہوا کرتی تھیں، زیادہ سے زیادہ ان کا کردار میڈیکل اور ایجوکیشن کے محکموں میں نظر آتا تھا، اب آئے دن ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں یا ویڈیو کلپ دیکھنے میں آتے ہیں کہ انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔
دعا چودھری نامی سٹیج اداکارہ گرین ٹائون میں رہائش پذیر ہے، چند روز قبل اس کے یہاں سالگرہ کی تقریب تھی، جہاں کچھ گانا بجانا بھی تھا، پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ اس کے گھر پر چھاپہ مارا، وہاں موجود سات مہمانوں، مردو خواتین کو گرفتار کیا اور تھانہ گرین ٹائون میں لاکر بند کردیا، ان پر لائوڈ سپیکر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا، کچھ دیر بعد پولیس کی بیان کردہ کہانی کے مطابق دعا چودھری اپنے متعدد ساتھیوں کے ساتھ تھانے پہنچی، اُس نے پولیس اہلکاروں کو خوب پھینٹی لگائی، ان کی وردیاں پھاڑ دیں، اپنی قوت بازو سے حوالات کے تالے کھلوائے اور زیر حراست ملزمان کو چھڑالے گئی، معصوم پولیس اہلکار منہ دیکھتے رہ گئے، بتایا گیا کہ دعا چودھری نے اس سے قبل تھانہ اچھرہ میں بھی ایسی پرفارمنس پیش کی تھی، جہاں اس نے اپنے ساتھیوں سمیت دھاوا بول کر کچھ لوگوں کی منجی پیڑھی ٹھونکی اور شان سے وہاں سے رخصت ہوئی۔
میرے مشاہدے میں ایسے دو ہی روح پرور واقعے آئے، پہلے واقعے میں بنوں جیل میں قریباً ڈیڑھ سو کے قریب دہشت گرد بند تھے، جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی تگ و دو کے بعد بمشکل گرفتار کیا تھا، ان پر مقدمات چلائے گئے، کچھ کو سزا سنائی دی گئی جب کہ کچھ دہشت گردوں کے مقدمات ابھی چل رہے تھے، ایک سہانی رات جیل میں بند دہشت گردوں کے کچھ اور دہشت گرد ساتھی کاروں، موٹر سائیکلوں، ٹریکٹر ٹرالیوں پہ بیٹھ کر آئے، انہوں نے جیل گارڈ سے اسلحے کے زور پر تمام اسلحہ چھینا، بیرکوں کے تالے توڑے اور تمام قید دہشت گردوں کو چھڑا کر لے گئے، ان دہشت گردوں کے علاوہ جیلوں میں مختلف جرائم میں سزا بھگتنے والے کچھ اور بھی قیدی اپنی سزا کاٹ رہے تھے جن کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن ان نیک دل دہشت گردوں نے اپنے ساتھیوں کے صدقے دیگر قیدیوں کو بھی جیل سے رہا کردیا، چند قیدیوں نے جو راہ راست پر آچکے تھے، ان کے سینے روشنی سے منور ہوچکے تھے، انہوں نے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا ہونے سے انکار کردیا، جس پر دہشت گردوں نے انہیں حکم دیا کہ اگر انہوں نے رہا ہونے سے انکار کیا تو انہیں وہیں اُسی جگہ گولی مار دی جائے گی، دہشت گردوں کی اس دھمکی کے بعد سب 
قیدیوں نے رہا ہوجانے میں ہی عافیت جانی، بتایا جاتا ہے دہشت گردوں نے اس موقع پر جیل حکام کی کافی مرمت کی، ان کے ڈھیلے پیچ خوب کسے، اگلے روز جب جیل حکام اور جیل گارڈ میں شامل افراد کے ہوش ٹھکانے آئے تو سب حوالات اور مختلف بیرکس خالی دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کو اب کہاں سے پکڑ کرلائیں، معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچا، ہمیشہ کی طرح اعلیٰ پیمانے پر انکوائری شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں کوئی بھی پولیس اہلکار قصوروار ثابت نہ ہوا، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی امداد یوں ملی کہ دہشت گردوں کے علاوہ جن قیدیوں کو جبراً فرار کرایا گیا تھا انہوں نے یکے بعد دیگرے جیل پہنچنا شروع کردیا، ان فرار ہونے والے قیدیوں نے تحریری بیانات دیئے کہ وہ جیل سے فرار ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ جیل کو ہی اپنا گھر قرار دے چکے تھے، لیکن دہشت گردوں نے انہیں راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا، قیدیوں کی باعزت جیل واپسی پر ان قیدیوں کے لئے تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کی صحت و تندرستی اور درازی عمر کی دعا کرائی گئی۔
اس دنیا میں دعائوں کی ضرورت کسے نہیں، بالخصوص جب سے ملاوٹ شدہ دوائیں مارکیٹ میں ہیں، دعائوں کی اہمیت و ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے، میں، میرے ہم عمر، میرے ہم عصر، میرے دوست احباب ہر وقت بزرگوں، دوستوں سے دعا کے طالب رہتے ہیں، ہمیں دعا کی طاقت پر بہت بھروسہ ہے، لیکن دعا چودھری کی جرأت رندانہ اب ہماری امیدوں 
کا مرکز ہے، دعا چودھری نے اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے، جس میں پولیس کے کردار پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔
اسی روز لاہور کے قریب بابا بلھے شاہؒ کی نگری قصور میں بھی بصیرت افروز واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیو وائرل ہونے پر اعلیٰ پولیس حکام کو ہوش آیا، واقعے کے مطابق کسی مقدمے میں دو خواتین کو تفتیش کے لئے بلایا گیا، تفتیش کا رائج الوقت پہلا اور آخری کلیہ چھترول ہے، لہٰذا اس کار خیر کے لئے دونوں خواتین کو فرش پر الٹا لٹا کر فرض کی تکمیل کا فیصلہ ہوا لیکن عین موقع پر معلوم ہوا کہ موجود لیڈی کانسٹیبل نے چھترول کا کورس نہیں کررکھا، سب انسپکٹر حیدر علی کو والدین نے بچپن ہی سے تربیت دی تھی کہ عورتوں پر ہاتھ اٹھانا اچھی بات نہیں ہوتی لہٰذا اس نے خود چھترول کرنے کے بجائے ساجدہ نامی ایک عورت کو طلب کیا، جس کا پولیس سے کوئی تعلق نہ تھا، وہ رضاکارانہ طور پر انسپکٹر صاحب کا ہاتھ بٹانے کے لئے آجایا کرتی تھی، مذکورہ تفتیش میں بھی ساجدہ  کے کہنے پر ان دو خواتین کو تھانے بلایاگیا تھا، جس کے بعد انسپکٹر صاحب کے حکم پر ساجدہ نامی رضاکار چھتر ایکسپرٹ نے دونوں خواتین کو زمین پر الٹا لٹاکر ان کی چھتر سے خوب تواضع کی، اس کے ساتھ اُس کے حکم پر لیڈی کانسٹیبل عائشہ نے ان لمحات کی ویڈیو بناکر اُسے سوشل میڈیا پر ڈالا، تاکہ علاقے میں اُس کی دھاک بیٹھ جائے کہ یہ ہے وہ شیرنی ہے جو اپنے خلاف کسی بھی قسم کی الزام تراشی یا درخواست بازی کرنے والوں کو خود تھانے پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے چھتر لگاتی ہے۔
بتایاگیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران نرم دل، نیک دل انسپکٹر حیدر علی خود موجود تھا جب کہ ایک ملزمہ کے ساتھ اس کے کمسن بچے کے سامنے زبردست تشدد کیا گیا، واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد ڈی پی او قصور کے احکامات پر ماہر چھتر کاری ساجدہ، لیڈی کانسٹیبل عائشہ اور انسپکٹر حیدر کے خلاف مقدمہ درج کرکے کانسٹیبل عائشہ اور انسپکٹر کو معطل کردیا گیا ہے، اعلیٰ پولیس حکام نے قانونی تقاضے پورے کردیئے، ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، اگلے مرحلے میں تشدد کرنے والی عورت ساجدہ ضمانت پر رہا ہوجائے گی، ملزمان کے وکلا کی طرف سے معاملہ بڑھانے کے بجائے سمیٹنے کے فارمولے پر عمل ہوتا نظر آئے گا، معطل شدہ لیڈی کانسٹیبل عائشہ اور انسپکٹر حیدر علی کچھ عرصہ لائنز میں گزارنے، ریسٹ کرنے یا کسی تفریحی مقام کی سیر کے بعد واپس آئیں گے تو کچھ بااثر عوامی نمائندے ان کی معافی کی درخواست کے ساتھ اعلیٰ پولیس حکام کو مل کر بتائیں گے کہ جو کچھ ہوا وہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا، زیر تفتیش ملزمان اور تشدد کرنے والے ملزمان قریب بیٹھ کر تشدد سے لطف اندوز ہونے والے انسپکٹر اور ویڈیو بنانے والی پولیس لیڈی کانسٹیبل نے ایک دوسرے کو اللہ کے واسطے معاف کردیا ہے، لہٰذا معطل پولیس اہلکاروں کو بحال کردیا جائے، وہ خود چل کر ان کی نیک چلنی کی ضمانت دینے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔
اعلیٰ پولیس حکام ہر وقت خوف خدا دل میں رکھتے ہیں، ان کا عہدہ جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے ان کا دل اتنا ہی نرم، پس وہ صورت حال اور عوامی نمائندوں کی سفارش کے مطابق نالائق، نااہل اہلکاروں کو معاف کرکے پھر اُن کی مرضی کے مطابق نئی جگہ پوسٹنگ کرکے کسی نئے دل خراش واقعے کا انتظار شروع کردیں گے، پھر سب کالی بھیڑیں اور سفید بھیڑیں مل جل کر ہنسی خوشی رہنے لگیں گی، کسی کو نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا۔