05 دسمبر 2021
تازہ ترین

کامیابی اور ناکامی… کامیابی اور ناکامی…

پاکستان میں سیاست ایک نئے دور میں داخل ہونے جارہی ہے اور حالیہ کچھ برسوں میں سیاست جس اتار چڑھائو سے دوچار رہی، سیاسی پنڈت تجزیہ کررہے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی سیاست کی حالت سمندر میں اس دیوہیکل کشتی جیسی ہے، جو تند و تیز لہروں میں ہچکولے کھاتے نظرآتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے کہ ہم حقیقت بلکہ سیاسی حقیقت کو تسلیم نہیںکرتے اور پھر اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس کی قیادت سیاسی حقیقت ہے، لیکن حکومتی لوگ اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے، جب کسی معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو پھر اس کی اس طرح منصوبہ بندی بھی نہیں ہوتی۔ پہلے لوگ تھڑوں پر بیٹھ کر کسی ’’سیانے‘‘ سمجھ دار شخص کا تبصرہ ایسے خاموشی سے سنتے تھے، جیسے مسجد میں وعظ چل رہا ہو، لیکن جب سے ٹی وی چینلز کی تعداد بڑھی ہے، شام کو سیاست پر تجزیاتی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے سیاست دانوں کی خبریں ان کے اہل خانہ اوردوستوں تک بعد میں پہنچتی ہیں اورعام آدمی کی دسترس پہلے ہوتی ہے، ایسے میں لوگ اب خاموشی سے کسی کا تجزیہ نہیں سنتے بلکہ اپنا نقطۂ نظر بھی سامنے رکھتے ہیں اور سوال و جواب کرتے ہیں، اس لئے اب یہ سوچ پرانی ہوگئی کہ سیاست دان یا کوئی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے۔ مختلف انتخابی حلقوں کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور لوگوں کا اتنا تجربہ ہوچکا کہ ان کے سیاسی تجزیے سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ 
ابھی انتخابات میں دو سال باقی ہیں، لیکن یہ تجزیے شروع ہوچکے ہیں کہ آئندہ کون کس کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے گا اور دلچسپ دعوے سامنے آرہے ہیںاور اگر بالکل ایسا ہی ہوا تو آئندہ عام انتخابات کے بعد تو حکومت کا نقشہ بالکل ہی مختلف نظر آرہا ہے، لیکن یہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں، اس لئے حتمی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مسلم لیگ (ن) سے قربت رکھنے والے بعض دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور ان کے بقول سابقہ حکمران جماعت اپنے لئے ’’اسپیس‘‘ بنانے میںکامیاب ہوجائے گی، یہ کس بنیاد پر کہا جارہا، اس بارے میں کھل کر بات نہیںکی گئی، لیکن اس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بظاہر میڈیا میں چوکے چھکے مارنے والی مسلم لیگ (ن) پس پردہ اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے برعکس سیاسی جوڑ توڑ کرنے اور مفاہمت کے داعی ہیں۔ حالات پر نظر رکھنے والوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالانکہ ابھی انتخابات میں وقت ہے، لیکن ناصرف حکمران جماعت بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اراکین اسمبلی کی سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی رابطوں پر نظر رکھنا شروع کردی ہے اور ان کی مستقبل کی سوچ کے حوالے سے ان کے قریبی لوگوں سے آگاہی حاصل کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات کے لئے ورکنگ بھی شروع کردی، تاہم اگر حکومت آئندہ برس مارچ یا اپریل میں بلدیاتی انتخابات کراتی ہے تو اس تیاری میں عارضی تعطل لاکر بلدیاتی میدان کو ہرگز خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی بھی مرتب کی جارہی ہے۔ 
دوسری جانب (ن) لیگ کی یہ بھی کوشش ہے کہ لارڈ میئر لاہورکرنل (ر) مبشر جاوید کے ذریعے عدالت میں اس مد میں ریلیف لیا جائے کہ بلدیاتی اداروں کو معطل کرنے کا جتنابھی عرصہ ہے، بلدیاتی نمائندوں کو اسے پورا کرنے دیا جائے اور اگر یہ صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس کوئی چانس باقی نہیں بچے گا کہ وہ عام انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کرے، لیکن یہ آئندہ چند روز میں واضح ہوجائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پارٹی زعماء کو ہدایات کی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپورکامیابی کے لئے حکمت مرتب کی جائے۔ حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب کے مقابلے سے آئوٹ ہونے والے جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ نے اس حوالے سے حلقہ این اے 133میں بلدیاتی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باقاعدہ ورکنگ بھی شروع کردی ہے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید جمشید اقبال چیمہ آئندہ عام انتخابات میں این اے 133کوہی اپنا حلقہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور انتخابی عمل سے باہر ہونے کے بعد بھی جس طرح وہ اس حلقے میں اپنی سرگرمیاں کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے توقع کے برعکس این اے 133 کے ضمنی انتخاب کے لئے بھرپور سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف ایک طرح سے اسی حلقے میں ڈیرے لگائے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی میں سیاسی جان نظر آئی ہے اور اس کی بڑی وجہ تحریک انصاف کا اس حلقے سے سیاسی طور پر نظروں سے اوجھل ہونا اور پیپلز پارٹی کے لئے اسپیس بننا ہے۔ 
ویسے تو سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس حلقے میں پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی موازنہ نہیں، لیکن تحریک انصاف کے آئوٹ ہونے سے طویل عرصے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ون ٹوون مقابلے پر ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر اس حلقے میں تحریک انصاف میدان میں ہوتی تو ووٹنگ کی شرح 50 سے 60 فیصد رہنے کی توقع تھی، لیکن اب یہ شرح 12 سے 16 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جس سے اس حلقے میں ہونے والا انتخابی عمل اخلاقی طور پر بے معنی ہوجائے گا، تحریک انصاف کو اس حلقے سے باہر ہونے سے ناصرف بڑا دھچکا لگا بلکہ بڑا سیاسی ڈنٹ بھی پڑا ہے اور مسلم لیگ (ن) اسے بھرپور طریقے سے کیش کرانے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سارے ایسے عوامل ہے جن کی کڑی سے کڑی جڑے گی اور اس سے کامیابیوں اور ناکامیوںکا ہار بنے گا اور یہ کس کے گلے میں پڑے گا اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ دوسری طرف حکومت کے لئے معاشی مسائل پہلے سے بڑھ رہے ہیں اور اگر حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کا پروگرام مکمل کرتی ہے تو وہ آخری دو بجٹ میں بھی ’’فری فارآل‘‘ کے اعلانات نہیں کرپائے گی اور یہ حقیقت واضح ہے کہ حکومت کے پاس فی الوقت ایسی کوئی صورت نظر نہیںآتی کہ وہ آئندہ دو سال میں عوام کو ریلیف دے سکے گی۔ موجودہ حالات میں حکومت آئل پر زیادہ سے زیادہ ٹیکسز میں چھوٹ دے کر کتنا ریلیف دے سکتی ہے؟، اگر فی لیٹر 50 روپے ریلیف بھی دیا جائے تو اس کی قیمت 350 کے قریب ہی رہے گی اور دوجمع دوکا حساب رکھنے والے کہتے ہیںکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ 170روپے تھا۔ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے لئے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو بڑھانے کا بھی عندیہ دے چکی، اس کے ساتھ پٹرولیم لیوی کو 30روپے تک لے جانے کا بھی طبل بجادیا گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکومت صرف اصلاحات، کرپشن کو روکنے اور پورٹلز متعارف کرانے کے نعروںکے زور پر اپنی توقع کے مطابق کامیابی حاصل کرلے گی تو ایسا تو ممکن نظر نہیں آتا۔