05 دسمبر 2021
تازہ ترین

پروفیسر مرغوب صدیقی، عظیم استاد اور سکالر پروفیسر مرغوب صدیقی، عظیم استاد اور سکالر

پروفیسر مرغوب صدیقی اپنے دور کی صحافت کا بہت بڑا نام ہے۔ ایک ثقہ صحافی اور سکالر، تجزیہ کار تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے جرنلزم کی کلاسوں کا اجرا انہوں نے کیا تھا۔ امریکہ تعلیم حاصل کرنے گئے تھے، جہاں اُن کے واقفوں میں بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے دو اہم نام آتے ہیں۔ ایک کرٹ والڈہائیم جو بعد میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بنے اور دوسرے ہنری کِسنجر، جو بعد میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ بنے، (میں نے خود ان دونوں شخصیات کے ساتھ مرغوب صدیقی کی تصاویر ان کے گنگارام بلڈنگ والی رہائش پر میں دیکھی ہوئی ہیں، تاہم پروفیسر صدیقی سے ان کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں علم نہیں)۔ 
صدیقی صاحب تحریکِ پاکستان کے اہم کارکنوں میں سے تھے اور انڈیا کے شہر بدایوں میں صاحبِ حیثیت خاندان سے تعلق کے باوجود پاکستان ہجرت کرگئے تھے۔ اُن کی انڈیا میں کافی جائیداد تھی، جس پر کئی دہائیوں تک مقدمات چلتے رہے۔ ان کے پاکستان ہجرت کرنے اور ہندوستانی شہریت ترک کرنے کے بعد کئی لوگوں نے ان کی جائیداد ہتھیانے کے لئے عدالتوں میں مقدمات دائر کردئیے تھے۔ 
صدیقی صاحب کی بیوہ نے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ سن 50 کی دہائی میں جب پاکستان کو گندم کی قلت کے بحران کا سامنا پڑا تھا تو مرغوب صدیقی نے اپنے اثررسوخ سے امریکی پالیسی میکرز کو قائل کیا تھا کہ پاکستان کو جلد از جلد گندم فراہم کی جائے۔ مرغوب صدیقی اپنی آزاد منش طرزِ زندگی کی وجہ سے کسی اخبار میں باقاعدہ ملازم کے طور پر کام نہ کرسکے۔ وہ زیادہ عرصہ درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ اس دوران وہ سیاست، سماجیات اور بین الاقوامی امور پر علمی تجزیے لکھتے رہے۔ پاکستان کے کئی حکمرانوں سے اُن کے قریبی تعلقات رہے، لیکن اپنی خودداری اور عزت نفس کے باعث کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
1979 میں جنرل ضیا کے دور میں وہ اپنے دیرینہ دوست زاہد ملک سے ملاقات کے لئے راولپنڈی گئے، وہیں سڑک پر دل کا دورہ پڑا، ان کی وفات 23 نومبر1979کو راولپنڈی میں ہوئی۔ اُن کی میت نامعلوم شحض کے طور پر ایک دو دن مقامی ہسپتال کے مُردہ خانے میں پڑی رہی۔ دوستوں نے ان کی تدفین کا انتظام کیا۔ مرغوب صدیقی کمیونسٹ نظریات کے حامی نہیں تھے، اسی لئے اُن کے مخالفین اُنہیں امریکہ نواز دانشور گردانتے تھے، تاہم وہ متروکہ املاک وقف بورڈ کی جانب سے ملے ہوئے کرائے کے ایک فلیٹ میں رہے اور اپنے ترکے میں کُچھ بھی نہیں چھوڑا۔ کیسی ستم ظریفی تھی۔ 
پاکستان کی تقسیم سے قبل ہی آزادی کی جنگ لڑنے والے پڑھے لکھے طبقوں میں یا دوسرے الفاظ میں انٹیلیجنشیا میں بائیں بازو کے نظریات فروغ پارہے تھے، جس کی ایک وجہ تو بائیں بازو کے نظریات کا مقبول ہونا تھا اور دوسری وجہ، جو میرے خیال میں زیادہ اہم تھی، یہ تھی کہ نوآبادیوں میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں مغربی حاکموں کے خلاف تھیں۔ جیسے کہ جنوبی ایشیا میں آزادی برطانیہ سے مانگی جارہی تھی۔ برطانیہ کی طرح چند ایک اور یورپی طاقتیں اُس زمانے کی حاکم قوتیں تھیں، جنہوں نے دنیا کے کئی حصوں پر اپنی نوآبادیاں قائم کی ہوئی تھیں اور یہ سب اپنے محکوم علاقوں کو آزاد نہیں کرنا چاہتی تھیں، تاہم اُسی دور میں جب روس میں سوشلسٹ انقلاب آیا تو سوویت یونین بننے والا پہلا سوشلسٹ ملک ان نوآبادیوں کا حامی بن کر ابھرا۔ محققین کے مطابق، کئی نوآبادیوں میں آزادی کی تحریکیں نظریاتی طور پر سوشلسٹ نہیں تھیں، لیکن کیونکہ سوویت یونین مغربی طاقتوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریکوں کی حمایت کرتا تھا، اس لئے مغربی طاقتیں ان آزادی کی تحریکوں کو سوشلسٹ تحریکیں کہہ کر کچلنا چاہتی تھیں۔
اس پس منظر میں بھارت اور پاکستان میں ایک نظریاتی الجھاؤ دیکھا گیا۔ بہت سے لوگ واضح یہ سمجھتے تھے کہ وہ سوشلسٹ تحریک کا حصہ ہیں جب کہ کئی دانشور خود کو سوشلسٹ نہیں سمجھتے تھے بلکہ آزادی کی تحریک کے کارکن سمجھتے تھے تاکہ وہ اپنے قومی وسائل اپنے ہی عوام کے لئے استعمال کرسکیں۔ ان غیر سوشلسٹ دانشوروں اور سیاسی کارکنوں میں مرغُوب صدیقی کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر مرغوب سوشلسٹ نہیں تھے، لیکن پاکستان کو ایک جدت پسند مقتدر اور لبرل جمہوریت کے طور پر تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ ان کے چند تجزیوں میں واضح نظر آتا ہے کہ وہ آزادی اظہارِ رائے اور آزاد پریس کے بغیر جمہوری نظام کے تصور کو ناقابلِ قبول سمجھتے تھے۔ وہ 50، 60 اور 70 کی دہائیوں کے بین الاقوامی اور علاقائی حالات کا گہرا ادراک رکھتے تھے، انہیں عالمی طاقتوں کی رسّہ کشی کا بھی احساس تھا اور اسی کو سمجھتے ہوئے وہ پاکستان کے لئے ایک عملیت پسند پالیسی کی وکالت کرتے تھے۔
پروفیسر مرغوب صدیقی اس دور کے لبرل دانشور تھے جب سرد جنگ کی وجہ سے دنیا دائیں اور بائیں بازو کی تحریکوں میں پُرتشدد انداز میں منقسم تھی۔ یہ وہ دور تھا جب دائیں اور بائیں بازو کے فعال کارکنان ایک دوسرے کا خون کردینے پر آمادہ نظر آتے تھے، چاہے اس کی قیمت عوام کو ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ صدیقی صاحب کا ان دونوں دھڑوں سے تعلق نہیں تھا۔ ایسے منقسم دور میں صدیقی صاحب کی کوشش تھی کہ قومی ترقی کے لئے تمام فریقوں میں کم سے کم ایجنڈے پر ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔
یہ وہی خیال ہے جو بعد میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کی سوچ کی بنیاد بنتا ہے۔ اُن کے یہی لبرل خیالات جو اُس دور میں ملک غلام جیلانی جیسے جمہوریت پسند سیاسی دانشوروں میں مقبول تھے، خاص کر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد، لبرل جمہوری نظام کی فکری بنیاد بنے اور انسانی حقوق کی اہمیت اور حقیقت کو تسلیم کیا گیا۔ اسی کے تسلسل میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیات کی پذیرائی ہوئی۔ 
یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سرد جنگ کے دور میں لبرل جمہوریت کے حامی مفکرین اور دانشوروں کو موقع پرست کہا جاتا تھا، کیونکہ اس دور میں بائیں بازو کے نظریات کی حمایت نہ کرنے والے کو ہر حال میں دائیں بازو کا حامی قرار دیا جاتا تھا۔ اُس زمانے کے حالات میں عاصمہ جہانگیر جیسے لوگوں کو بھی موقع پرست کہا جاتا، تاہم آج جب بائیں بازو عملی طور پر غیر موثر ہوچکا ہے، لبرلز ہی کو بائیں بازو کا وارث قرار جارہا ہے۔ 
اس دلیل کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو آج بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی لبرل ازم اور لبرل جمہوری نظام کی جو شکل وجود میں آئی ہے، اُس کے بانیوں میں کسی شک و شبہ کے بغیر پروفیسر مرغوب صدیقی کا نام لیا جاسکتا ہے۔ آج کی آزادی کی تحریک اور جمہوریت کی آفاقی مقبولیت کے سرخیلوں میں صدیقی صفِ اول کے مفکروں میں شمار ہوں گے۔ آج لبرل اقدار اور انسانی حقوق کی اہمیت کو نظریاتی تقسیم سے بالا ہوکر تسلیم کیا جانا ان کے نظریات کی ایک بڑی کامیابی ہے۔