05 دسمبر 2021
تازہ ترین

وقت بدل رہا ہے وقت بدل رہا ہے

زمانے کے ساتھ وقت بدلتا ہے، آج جو دنیا کی حالت ہوگئی ہے، وہ قدیم زمانے میں نہیں تھی نہ آج وہ انصاف ہے نہ آج وہ سچائی، آج وہ وفاداری ہے نہ محبت… بہت کچھ بدل گیا ہے، انسانیت آخری سانس لے رہی، ہوسکتا ہے کسی وقت اللہ تعالیٰ صفایا کردے، بہت سی خرابیاں عروج پر ہیں، سب سے بڑی تبدیلی انسانی شرم و حیا میں آئی ہے، آج بے حیائی ہر فرد کی جیب میں ہے، موبائل میں انٹرنیٹ ویب سائٹس پر آپ کیا دیکھتے ہیں، کیا یہ وہ انسان ہے جس کے لئے یہ دنیا تخلیق کی گئی تھی، ذرا غور فرمائیں ساری ترقی یافتہ دنیا گمراہ ہوگئی ہے، ہر وقت فلمیں چل رہی ہوتی ہیں، جن میں سمندر کنارے ہزاروں لاکھوں لوگ نامناسب لباس میں ہوتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، یہ دنیا اس کی تخلیق ہے، وہ دیکھ ر ہا ہے ا ور کسی وقت بھی وہ سب کچھ مٹادے گا اور کام تمام ہوجائے گا، انسان کسی بھی مذہب اور نسل کا ہو، وہ انسانیت کے اصولوں سے باہر نہیں جاسکتا، آج عورت کا کیا حال ہوگیا، اس میں مرد برابر کا گنہگار ہے، جب اللہ کا عذاب آئے گا تو عورت اور مرد دونوں پر آئے گا، انسان کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں جیسے حیوان کرتے ہیں، انسان اور حیوان میں اللہ نے فرق رکھا اور یہ فرق عقل و شعور کا ہے۔
انسان ،انسان ہے، حیوان ،حیوان ہے، بات سمجھنے کی ضرورت ہے، اللہ نے کرونا سے انسانوںکو وارننگ دی مگر انسان کو سمجھ نہیں آتی، ابھی کرونا کے اصل دور باقی ہیں، یہ میں نے دس سال پہلے تحریر کردیا تھا، اس میں میرا کمال نہیں اللہ نے میرے دماغ میں ڈالا اور میں نے لکھ دیا، ابھی کرونا باقی ہے اور اصول باقی ہے، اس کے علاوہ ایک پانی کے کیڑے کی بیماری باقی ہے، وہ کیڑا انسانوں کے جسم میں داخل ہوگا اور انسان ہلاک ہوجائے گا اور وہ کیڑا دریائوں اور سمندروں سے نمودار ہوگا، جو عنقریب ہونے والا ہے، یہ بھی میری ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ کیوں لکھا، اس کتاب کا نام عالمِ کُل ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو بُرے وقت سے بچائے، جب میری کتاب ’’روزِ قیامت‘‘ لوگ پڑھتے تھے تو مذاق اُڑاتے تھے کہ فرازی نے لکھا ہے کہ ایئرپورٹ بند ہوجائیں گے، شادی ہال بند ہوجائیں گے، لوگ اپنے رشتہ داروں کی میت کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، اتنا خوف ہوگا بیماری کا، وہی کچھ ہوا، دوست تو نفرت والی گفتگو کرتے تھے، آج میرے پاس کچھ کتابیں ہیں، آج جو کتاب پڑھے گا وہ کہے گا یہ تو کرونا کے بعد تحریر کیا گیا ہے، اس کتاب میں سانس کی بیماری کا ذکر ہے اورپوری دنیا 30 دن میں ہلاک ہونے کا ذکر ہے، اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو مگر اللہ کے عذاب پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں، انسان کو اپنی ترقی کی تبدیلیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، وقت بے شک بدل رہا ہے مگر یہ بدلائو خطرناک ہورہا ہے۔
انسان اپنے ہر عمل پر غور کرے تو اس کو پتا چلے گا کہ ہم ٹھیک سفر نہیں کررہے، ہماری سمت ٹھیک نہیں، ہم تو تنہائی کی طرف جارہے ہیں کہ انسان پر یہ لازم نہیں کہ یہ اپنے اعمال پر غور کرے، یہ دنیا انسانوں کی 
جاگیر نہیں، یہ تو اللہ کی جاگیر ہے اور یہ ہر انسان کو علم ہے، پھر بھی اس کو پتا نہیں کس بات کی خماری ہے کہ پاگل ہورہا ہے، جناب یہ دنیا عارضی قیام گاہ ہے، یہاں کوئی انسان اپنی مرضی سے قیام نہیں کرسکتا، بس آتا اور چلا جاتا ہے، پھر اللہ پاک نے اس کو بہت سی عقل عطا کی ہے کہ اے انسان ذرا سوچ غوروفکر کر تُو کیا ہے، تیری زندگی کیا ہے، تیرا مقام کیا ہے مگر افسوس ترقی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ کیا یہ ماضی کی تاریخ سے واقف نہیں، اس کو سب کچھ پتا ہے، بس غافل ہے دولت اور ترقی کے نشے میں دیوانہ ہوگیا ہے، اس کا خیال ہے ہماری ترقی ہماری تبدیلی ہے، جی نہیں یہ منزل نہیں کہ آپ اپنے جسم برباد کرلیں، حلال کھانا چھوڑ دیں، جائز طریقہ زندگی ترک کردیں اور ہر وہ کام کریں جو بے عقل جانور کرتے ہیں، آج انسان خود اپنے آپ سے سوال کرے کہ ہم کہاں ہیں، کس جگہ ہیں، کیا ہم کسی غلط راستے پر تو نہیں جارہے؟ جی ہم بالکل غلط راستے پر ہیں، وقت کی کوئی تبدیلی اس دنیا میں ہے ہی نہیں، انسان وہی ہے جو اللہ نے اس کو بنایا ہے۔ انسان کا اپنی تخلیق میں کوئی کردار نہیں، نہ اس کی کوئی اپنی مرضی ہے، سب اللہ کا قانون ہے، اس کو اللہ کے قانون کے مطابق زندگی گزارنی ہے، ورنہ اللہ ناراض ہوجائے گا اور پھر اسے راضی کرنا بہت مشکل ہوگا، کیوںکہ مرنے کے بعد اصلاح کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، ابھی یہ دروازہ کھلا ہے، ابھی غوروفکر کی گھڑی ہے اے انسان غورو فکر کر ورنہ ترے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ 
وقت تو ہر پل بدلتا رہتا ہے 
تُو کیا ہے یہ بھی کہتا رہتا ہے 
تُو جب بدلے گا تو خاک ہوجائے گا
ذرا اسے سن یہ کیا کہتا رہتا ہے 
اپنے ہر عمل پر غور کرنے کے لئے اللہ نے انسان کو عقل کی لاتعداد وسعتوں سے مالا مال کیا ہے، اس کے پاس عقل کی وہ وسعت ہے جو کسی مخلوق کے پاس نہیں، ذرا غور کریں۔