05 دسمبر 2021
تازہ ترین
چھوٹی پارٹیوں پر مشترکہ اجلاس میں جانے کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ، فضل الرحمان

چھوٹی پارٹیوں پر مشترکہ اجلاس میں جانے کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ، فضل الرحمان

  کوئٹہٜ حکومت مخالف اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں چھوٹی پارٹیوں پر مشترکہ اجلاس میں جانے کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ٟ پی ڈی ایمٞ کے سربراہ نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چل نہیں رہی، چلائی جا رہی ہے، ہم حکومت چلانے والوں اور چلنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ملکی حالات خراب نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اکثریت حاصل نہیں، اتحادی ساتھ دینے کو تیار نہیں، نا اہل حکمران اقتدار کو طول دینے کے لیے ناجائز طریقے اپنا رہے ہیں۔ حکومت جعلی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے لیے تیار کر رہی ہے۔ مشترکہ اجلاس کو شکست کے خوف سے ملتوی کیا گیا ۔ لوگوں کو سیف ہائوسز میں لےجایا گیا ہمیں رپورٹ ملی ہیں، حکومت کے پاس جبری اکثریت ہے۔ عدالت سے رجوع کیلئے قوانین کا جائزہ لیا جائےگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  چھوٹی پارٹیوں کو مشترکہ اجلاس میں جانے کیلئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ 19نومبر سے پہلے آخر جلدی کیوں ہے، یہ معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ سیاست میں ناجائز مداخلت ہو تو پھر شکایت ہمارا حق ہے۔ امیر جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا تھا کہ جب اس وزیراعظم کو منتخب کہا جاتا ہے تو دکھ ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے کسی چیز کی توقع نہ رکھیں۔ ملک کو جبر سے چلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناجائز حکمران کیخلاف ہم جہاد کر رہے ہیں۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں، بچوں کو بھوک ان سے دیکھی نہیں جارہی۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ عوام پر مہنگائی کے روز بم گرائے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کی چکی میں پوری قوم پس رہی ہے۔ پی ڈی ایم عوام آدمی کی آواز ہے۔ سابق جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بیان حلفی کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔ نوازشریف نے واپس آنے کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت گرانے سے پہلے یہ سوچنا ہوگا متبادل کیا ہے۔ متبادل اس سے بھی برا ہوا تو کیا کریں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟