05 دسمبر 2021
تازہ ترین
آئی پیڈ اور آئی فون کے بعد ایپل ٴٴ آئی کارٴٴ کا منصوبہ

آئی پیڈ اور آئی فون کے بعد ایپل ٴٴ آئی کارٴٴ کا منصوبہ

  لندنٜ یہ بات تقریباً یقینی ہوچکی ہے کہ اپنے آئی پیڈ اور آئی فون کے حوالے سے شہرت رکھنے والی ایپل کارپوریشن نے اسی طرز پر آئی کار بھی پیش کرنے کی تیاری کرلی ہے جو بجلی سے چلے گی۔ اگرچہ اس منصوبے پر پچھلے سات سال سے کام ہورہا ہے لیکن اس بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں اور یہ سارا کام انتہائی رازداری سے کیا جارہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ کار 2025 تک فروخت کےلیے پیش کردی جائے گی۔ برطانوی کار لیزنگ کمپنی واناراما نے اپنے ایک تازہ بلاگ میں ایپل آئی کار کا مکمل تھری ڈی ڈیزائن جاری کردیا ہے۔ واناراما کا دعوی ہے کہ یہ ڈیزائن بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہے کیونکہ یہ اُن پیٹنٹس کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جو ایپل کارپوریشن نے پچھلے چند سال کے دوران امریکی پیٹنٹ آفس سے حاصل کی ہیں۔ البتہ پیٹنٹ نمبر US10309132B1 اور US10384519B1 کو سب سے اہم قرار دیا گیا ہے، جن میں سے پہلی کا تعلق کار کی بیرونی ساخت سے جبکہ دوسری پیٹنٹ اس کار کے اندرونی حصوں یعنی ڈیش بورڈ، ونڈ اسکرین اور سیٹوں وغیرہ کے بارے میں ہے۔ امریکن پیٹنٹ آفس کی ویب سائٹ سے ان دونوں میں سے کسی ایک پیٹنٹ کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن ٹیکنالوجی سے وابستہ عالمی حلقے پھر بھی اس رپورٹ کو معتبر قرار دے رہے ہیں۔ واناراما کے مطابق، اس کار میں ایک خودکار الکحل میٹر بھی نصب ہوگا جو ڈرائیور کے بیٹھتے ہی اس کے نشے میں ہونے یا نہ ہونے کا پتا چلائے گا۔ ایپل آئی کار کی تھری ڈی تصاویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے آئی فون کی شکل میں معمولی تبدیلی کرکے اس کے نیچے پہیے لگا دیئے گئے ہوں۔ دروازوں کے ہینڈل، آئی فون کے بٹنوں جیسے رکھے گئے ہیں جبکہ کار کی سفید رنگت بالکل ویسی ہے جیسی 2010 میں آئی فون 4 کی تھی۔ ایپل آئی کار کی ونڈ اسکرین ایک بڑی اسمارٹ فون اسکرین کی طرح ہوگی جس پر سامنے کا منظر اور سفر سے متعلق دوسری معلومات بھی ایک ساتھ دیکھی جاسکیں گی۔ کار کی سیٹیں لچک دار لیکن مضبوط ہوں گی جنہیں گھمایا بھی جاسکے گا جبکہ ڈیش بورڈ بھی مکمل طور پر کسٹمائزیبل ہوگا، یعنی ڈرائیور اپنی سہولت کے حساب سے ڈیش بورڈ کو تبدیل کرسکے گا۔ واناراما کے دعوے اپنی جگہ لیکن یہ تھری ڈی ڈیزائن بھی بہرحال ایک اندازے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایپل آئی کار اصل میں کیسی ہوگی؟ اس کا حتمی جواب تو ایپل کارپوریشن ہی کے پاس ہے جس نے اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟