05 دسمبر 2021
تازہ ترین
 پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آجٜ حکومت، اپوزیشن کی صف بندی مکمل

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آجٜ حکومت، اپوزیشن کی صف بندی مکمل

  اسلام آبادٜ صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج بدھ کی دوپہر 12بجے طلب کرلیا ہے۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کیا ہے جو دوپہر 12بجے ہوگا۔ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل سمیت دیگر بل پیش کئے جائیں گے۔ دوسری جانب حکومت نے اجلاس کیلئے اپنی حکمت عملی طے کرلی ہے۔ پارلیمنٹ کی سکیورٹی سخت کرنے اور ارکان کیلئے شٹل سروس چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو پارلیمنٹ لاجز ہاسٹل اور پارلیمنٹ ہاکس کے درمیان چلے گی۔ مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے 22بل ایک ساتھ منظور کرانے کی حکمت عملی ہے، جن میں انتخابی اصلاحات، ای وی ایم، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بل شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس میں 8بلز پر مختلف ترامیم منظوری کیلئے پیش کی جائیں گی، اس اجلاس میں ایسے بل بھی پیش ہوں گے جو سینیٹ سے منظور نہیں ہو سکے تھے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ ہائوس کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور پارلیمان میں وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کے مہمانوں، اور ارکان کے سکیورٹی گارڈز کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان خود بھی ایکشن میں ہیں، انہوں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھک سجائی اور ارکان اسمبلی و سینیٹرز سے ملاقاتیں کیں، حکومتی قانونی ٹیم بھی چند گھنٹے کے فرق سے دو بار ملی۔ جبکہ وزیراعظم سے ایم کیو ایم وفد نے بھی ملاقات کی ہے، ذرائع  کے مطابق ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو مشترکہ اجلاس میں مکمل ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم سے مطالبات جلد پورے کرنے کا وعدہ کیا۔ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی ملاقات کی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ پارلیمنٹ اجلاس کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ جبکہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے متحدہ اپوزیشن کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے وفد میں رانا ثنا اللہ، خورشید شاہ، شیری رحمان اور سمیت دیگر شامل تھے۔ اپوزیشن ارکان نے م¶قف اختیار کیا کہ آپ نے اپوزیشن کو ای وی ایم اور دیگر متنازعہ قانون سازی پر مذاکرات کی دعوت دی، اپوزیشن نے آپ کے خط پر مشاورت پر رضامندی ظاہر کی لیکن اب حکومت مشترکہ اجلاس بلا رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر اسد قیصر سے سوال کیا کہ اب بتائیں توہین کس کی ہوئی؟ اس پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ میں وزرا کو بلاکر ابھی بات کرتا ہوں، اتفاق رائے سے قانون سازی ہوتی تو بہتر تھا۔ دوسری طرف پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے قانون سازی کیلئے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی طے  کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پوری قوت سے حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کا راستہ روکیں گے، اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے اراکین پارلیمنٹ کی 100فیصد حاضری یقینی بنائیں گی۔ اجلاس کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو معاشی زوال اور عوام کو مہنگائی کے وبال میں مبتلا کرنے والی ظالم حکومت سیاہ قوانین سے زندگی نہیں پا سکتی، حکومت گرتی ہوئی دیوار ہے، سہارے اسے بچا نہیں سکتے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟