05 دسمبر 2021
تازہ ترین
حکومت کا ہر ماہ پٹرولیم لیوی 4روپے95پیسے بڑھانے کا اعلان

حکومت کا ہر ماہ پٹرولیم لیوی 4روپے95پیسے بڑھانے کا اعلان

اسلام آبادٜ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے ہونیوالے معاہدے کے بعد ہر ماہ پٹرولیم کی لیوی 4روپے95پیسے بڑھانے اور پی ڈی ایل کو30روپے تک لے کر جانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مشیر برائے خزانہ شوکت ترین اور وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پٹرول پر ہر ماہ 4اعشاریہ95پیسے کے ٹیرف بڑھائیں گے جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو30روپے تک لےکر جانا ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کو معاشی اصلاحات پر عملدرآمد کرکے دکھائیں گے، میرے نزدیک ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، سیلز ٹیکس میں اقدامات کرنا پڑیں گے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کافی لے دے ہوئی ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے 700ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، انکم ٹیکس اور زرعی شعبے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ منظور کرانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے نزدیک ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، مسئلہ کیپسٹی پیمنٹ کا ہے، پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہوا ہے، سٹیٹ بینک کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں، ٹیکس قوانین اور کاروبار میں مزید آسانیاں پیدا کرنا ہونگی جبکہ پاور سیکٹر میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ ہے لیکن یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہوا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں، اب پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر ملیں گے، اب پاکستان کے لیے سستے قرضوں کا حصول آسان ہو جائے گا جبکہ بجلی کے نظام میں بہتری اور ایڈجسٹمنٹ کا بھی آئی ایم ایف نے کہا ہے۔ مشیر خزانہ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل ہوا، کرونا کے باوجود معیشت کی بہتری کوآئی ایم ایف نے تسلیم کیا، آئی ایم ایف تقریبا پاکستان کوایک ارب ڈالر دے گا، آئی ایم ایف نے ٹیکس اصلاحات جاری رکھنے کا کہا ہے، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی جبکہ آئی ایم ایف نے کہا ٹیکس، توانائی شعبے میں اصلاحات جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کچھ رعایت لینے میں کامیاب رہے، سٹیٹ بینک کی ترمیم کی منظوری پارلیمنٹ سے لینا ہوگی، سیلز ٹیکس کی چھوٹ، بجلی مہنگی اور کرونا اخراجات کا آڈٹ آئی ایم ایف کو بتانا ہوگا، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے لیے آئین سازی کرنا پڑے گی جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی 340ارب روپے لگانا طے پایا ہے۔ آئی ایم ایف سب اشیا پر 17فی صد سیلز ٹیکس کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ اس سال کے آخر تک ٹیکس کولیکشن بڑھا کر 6100 ارب کا ٹیکس جمع کریں گے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مالی اخراجات کم کرکے بجٹ خسارہ قابو کریں گے۔ وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا انرجی کے شعبے میں زبردست کام کیا، پروگرام کے بعد معیشت میں مزید استحکام آئے گا، دنیا کرونا کا شکار ہے، دنیا میں مہنگائی30سال کی بلند ترین سطح پر ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضا مندی پہلے ہوگئی تھی اسلئے آئندہ چند ماہ کے بعد بجلی مزید مہنگی کرنا پڑے گی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ توانائی سیکٹر میں ریکوری میں بہتری آئی ہے، ٹرانسمیشن کیپسٹی کو بھی بہتر کر رہے ہیں ، بجلی گھروں سے سارے معاہدے پچھلی حکومت نے کئے، اب ہم 200یونٹ کی نئی تشریح کر رہے ہیں، اب 200یونٹ وہ ہوگا جو 6ماہ سے زیادہ اسی یونٹ میں رہے گا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟