05 دسمبر 2021
تازہ ترین
ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں، مجبوراً قرضہ لیتے ہیں، وزیراعظم

ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں، مجبوراً قرضہ لیتے ہیں، وزیراعظم

اسلام آبادٜ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ملک کو چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے مجبوراً قرضہ لینا پڑتا ہے، ٹیکس کلیکشن ملک کی سکیورٹی کا مسئلہ بن چکا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٟ ایف بی آرٞ کے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کریں گے، سابق حکمرانوں نے بیرون ملک دوروں پر بہت زیادہ پیسے خرچ کیے، ریونیو کے حصول میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا بہت بڑا کردار ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ٹیکنالوجی کی طرف بہت بڑا قدم ہے۔ امید ہے ہماری ٹیکس وصولی ریکارڈ 6 ہزار ارب تک پہنچ جائے گی، تو اس میں سے 3 ہزار ارب ان کے لیے ہوئے قرضوں پر جائے گا اور 22 کروڑ عوام کے لیے 3 ہزار ارب رہ جائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اتنے قرضے لینے کے بعد بھی ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا، قرض لینے والوں کو سزائیں ہونی چاہئیں، 6ٹریلین قرضہ تھا، 10سال میں 30 ٹریلین قرضہ ہوگیا، ملک میں ٹیکس کلچر لانا بہت ضروری ہے، ماضی کے حکمرانوں نے بیرون ملک دوروں پر بہت زیادہ پیسے خرچ کیے، ماضی کی حکومتوں میں لوگ ٹیکس چوری کرنا نیک کام سمجھتے تھے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا آغاز کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ماضی میں ہمارے ملک میں کوئی ٹیکس کلچر ہی نہیں بنا، دیگر ممالک میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں، اسی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں، ہماراسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کوچلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں یہ کلچر کبھی نہیں آنے دیتے تھے، انگلینڈ کی سالانہ آمدنی پاکستان کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہے، وہاں کے وزرا کی زندگی دیکھیں، ان کے وزرا باہر جاتے ہیں تو ان کو احکامات ہیں کہ 5 گھنٹے سے کم سفر ہے تو اکانومی کلاس میں سفر کریں۔ انگلینڈ کا وزیراعظم امریکا گیا تو وہاں سفارتخانے میں رہتا ہے اسلئے کہ ہوٹل میں ہمارا خرچہ نہ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مقروض ملک کے وزرائے اعظم نے باہر جو پیسہ خرچ کیا ہے، اس کے بارے میں کیا بتائوں، اس کو ہم نے کافی دکھایا بھی ہے، انہوں نے 10 گنا زیادہ خرچ کیا جبکہ میں آرام سے گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک حکمران کو احساس نہ ہو کہ میں عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کر رہا ہوں تو لوگ اس کو ٹیکس نہیں دیں گے اور وہ کلچر نہیں بنے گا۔ میں جب یونیورسٹی میں تھا وہ وہاں طلبہ بھی کہتے تھے کہ یہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہے اور غلط خرچ کر رہے ہیں، عوام نظر رکھتے تھے اور حکمرانوں کو بھی پتہ تھا کہ ہم قابل احتساب ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟